رسائی کے لنکس

سورج کی شعاعوں سے پینے کا پانی صاف بنانے کا منصوبہ

  • حسن سید

سورج کی شعاعوں سے پینے کا پانی صاف بنانے کا منصوبہ

سورج کی شعاعوں سے پینے کا پانی صاف بنانے کا منصوبہ

منصوبے کے تحت صاف پانی سے محروم آبادی کو اس بات کی طرف راغب کیا جائے گا کہ وہ پینے کے پانی کو ”پیٹ بوتلوں“ یا پلاسٹک کی دوبارہ قابل استعمال بوتلوں میں ڈال کر چھ گھنٹے کے لیے سورج کی روشنی میں رکھیں تاکہ پانی میں موجود جرثوموں اور دوسرے مضر صحت جزیات کو زائل کیا جاسکے ۔

سولر واٹر ڈِس انفیکشن یعنی شمسی توانائی کے ذریعے پانی کو جراثیم سے پاک بنانے کا ایک پروگرام بدھ کے روز پاکستان بھر میں شروع کیا گیا جہاں کل آبادی کا 50فیصد سے بھی زائد پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جب کہ آلودہ پانی پینے سے بچوں کی شرح اموات بھی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔

پروگرام کاآغاز حکومت پاکستان، ایک غیر سرکاری تنظیم ایس ڈی پی آئی اور سوئٹرزلینڈ تعاون کے ایک ادارے نے مشترکہ طور پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں کیاجس کا مقصد نہایت کم خرچ سے نچلی سطح پر” گھروں میں پانی کا معیاربہتر بنانے“کے طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار اگرچہ آلودہ یا زہریلے پانی کو صاف نہیں کرسکتا لیکن اس کے ذریعے غیر محفوظ پانی کو درمیانے درجے تک پینے کے لیے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کی محقق مومی سلیم نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بتایا کہ منصوبے کے تحت صاف پانی سے محروم آبادی کو اس بات کی طرف راغب کیا جائے گا کہ وہ پینے کے پانی کو ”پیٹ بوتلوں“ یا پلاسٹک کی دوبارہ قابل استعمال بوتلوں میں ڈال کر چھ گھنٹے کے لیے سورج کی روشنی میں رکھیں تاکہ پانی میں موجود جرثوموں اور دوسرے مضر صحت جزیات کو زائل کیا جاسکے ۔

ان کا کہنا تھ اکہ اس طریقہ کار سے اگرچہ پانی سو فیصد تک صاف نہیں ہوگا لیکن 70سے 75ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہونے سے قدرے محفوظ ہوجائے گا۔

سوئس تعاون آفس کی ایک عہدیدار جمیلہ خاتون وارثی نے بتایا کہ شمسی توانائی کے ذریعے پانی کو صاف بنانے کا منصوبہ پہلے ہی لاطینی امریکہ،افریقہ اور جنوبی ایشیا کے کئی ملکوں میں جاری ہے اور پاکستان کے ضلع حید رآباد اور فیصل آباد میں اس پروگرام کو تجرباتی بنیادوں پر چلانے کے نتائج ان کے مطابق یہ سامنے آئے ہیں کہ گندہ پانی پینے سے پیدا ہونے والی بیماریوں خاص طور پر ڈائریا میں واضح کمی واقع ہوئی۔

تقریباً ایک کروڑ روپے لاگت کا یہ منصوبہ 2011ء تک جاری رہے گا جس دوران متعلقہ ادارے عوام میں اس نئے طریقہ کار کی تشہیر کے ساتھ ساتھ صاف پانی کی اہمیت کو بھی اجاگر کریں گے۔

تقریب میں موجود بعض ماہرین کا کہنا تھا کہ سولر واٹر ڈس انفیکشن اگرچہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن یہ کس حد تک مطلوبہ نتائج حاصل کرپائے گا اس کا اندازہ وقت کے ساتھ سائنسی تجزیے سے ہی ہوگا۔

سورج کی شعاعوں سے پینے کا پانی صاف بنانے کا منصوبہ

سورج کی شعاعوں سے پینے کا پانی صاف بنانے کا منصوبہ

وزارت ماحولیات کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ منصوبے کے حوالے سے حکومت بھرپور حمایت اور مدد فراہم کرے گی جب کہ منصوبہ بندی کمیشن کے چیف واٹرنصیر گیلانی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی شمولیت سے اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پلاسٹک کی بوتلوں کے ذریعے صاف کیا گیا پانی لوگوں خاص طور پر بچوں کے جگریا گردوں کو متاثر نہ کرے جس کا خدشہ ان کے مطابق بہر حال موجود ہوسکتا ہے ۔

انھوں نے کہا ”ایک دوا کے استعمال سے تکلیف دور ہوجاتی ہے لیکن اس کے مضر اثرات کے امکانات بھی ہوتے ہیں“۔

ایک اندازاے کے مطابق اس وقت پاکستان کے شہری علاقوں میں 62فیصد جب کہ دیہی علاقوں میں 84فیصد لوگ پانی کو صاف کیے بغیر پیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG