رسائی کے لنکس

ساٹھ لاکھ سے زائد متاثرین کے لیے صاف پانی کی دستیابی


عالمی تنظیم کے ادارے یونیسف کے عہدے دار بِل فیلوز

عالمی تنظیم کے ادارے یونیسف کے عہدے دار بِل فیلوز

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ دوکروڑ افراد میں سے 62لاکھ افراد تک پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔ منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بچوں کے لیے عالمی تنظیم کے ادارے یونیسف کے عہدے دار بِل فیلوزنے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کی زیر نگرانی سرگرم ستر سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں روزانہ کی بنیاد پر لگ بھگ بتیس لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی مہیا کر رہی ہیں جب کہ مزید تیس لاکھ افراد کو پانی صاف کرنے کے لیے آلات اور ادویات فراہم کی جا چکی ہیں ۔

بل فیلوز نے کہا کہ صاف پانی سے متعلق صورت حال اچھی ہے اور اس میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے خبر دار کیا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں آلودہ پانی کے استعمال اور حفظان صحت کی ناقص صورت حال کے پیش نظر سیلاب زدگان میں بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں آئندہ چھ ماہ میں ہونے والے بحالی کے کاموں کے دوران متاثرہ افراد میں حفظان صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ مستقبل میں اُن علاقوں میں صحت اور صفائی کی صورت حال میں بہتری لائی جاسکے۔

اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کے مرحلے کے دوران صحت و صفائی سے متعلق ایک مربوط حکمت عملی نا اپنائی گئی تو مہلک وبائی امراض پھوٹنے کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بِل فیلوز نے بتایا کہ سب سے پہلے سیلاب کی زد میں آنے والے صوبہ خیبر پختون خواہ میں صورت حال استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن ملک کے جنوبی حصوں خصوصاً سندھ میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی تاریخ کے بدترین سیلاب سے تقریباً ساڑھے سترہ سوافراد کے ہلاک ہونے کی سرکاری سطح پر تصدیق کی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG