رسائی کے لنکس

پاکستان کا امریکی ڈرون حملوں پر احتجاج

  • یاسر منصوری

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر امریکی ڈرون حملوں میں حالیہ اضافے پر پاکستان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اِنھیں ملک کی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے پیر کو جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں اس موقف کو دہرایا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

’’پاکستان ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے ... ہم سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کے جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے فوائد کے مقابلے میں ان کے دور رس منفی اثرات کہیں زیادہ ہیں۔‘‘

قبائلی خطے شمالی وزیرستان میں پیر کی صُبح بغیر ہوا باز کے امریکی جاسوس طیارے یا ڈرون سے کیے گئے ایک میزائل حملے میں غیر ملکیوں سمیت کم از کم 15 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق اس حملے کا ہدف میر علی کے قریب عیسو خیل نامی گاؤں میں ایک مشتبہ مکان تھا جس پر چار میزائل لگے اور اس واقعہ میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

وزیرستان کےعلاقوں پر تین روز میں یہ مسلسل تیسرا ڈرون حملہ تھا اور ان میں مجموعی طور پر کم از کم 29 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہفتہ اور اتوار کو کیے جانے والے امریکی میزائل حملوں کا ہدف جنوبی وزیرستان میں کمانڈرمولوی نذیر کے گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے تھے اور ان میں مجموعی طورپر14 افراد مارے گئے۔

ان مبینہ جنگجوؤں کا تعلق مولوی نذیر گروپ سے تھا۔ مرنے والوں میں دو اہم طالبان کمانڈر، ملنگ اور غلام خان، بھی شامل تھے۔

پاک امریکہ تعلقات میں تناؤ کی ایک بڑی وجہ ڈرون حملے بھی ہیں اور ان کی فوری بندش کا مطالبہ پاکستانی پارلیمان میں اپریل کے وسط میں متقفہ طور پر منظور کی گئی قرار داد میں سر فہرست ہے۔

لیکن امریکی حکام اِنھیں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اہم اور موثر ہتھیار قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے عمومی تاثر یہی ہے کہ مستقبل قریب میں ڈرون حملے بند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

XS
SM
MD
LG