رسائی کے لنکس

امریکی ڈرون حملوں پر فوجی وسیاسی موقف میں تضاد


ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ

ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب دوہرے قتل کے الزام میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتار ی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے فوج کی طرف سے ڈرون حملوں کی افادیت کا باضابطہ اعتراف بظاہر اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے کہ دو طرفہ سفارتی کشیدگی دہشت گردی کے خلاف دنوں ملکو ں کی سکیورٹی فورسز کے مابین تعاون کو متاثر کررہی ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں سے متعلق حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ان واقعات میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر پاکستان امریکہ سے برابر احتجا ج کررہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکی رہنماؤں اورپاکستان کادورہ کرنے والے تمام امریکی وفود کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں باربار یہ معاملہ اُٹھایا ہے۔

تاہم وزارت خارجہ کی ترجمان نے حکومت ِ پاکستان کے اُس روایتی موقف کو نہیں دہرایا جس میں ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے پاکستانی سرزمین پر حملوں کا یہ سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

لیکن وزارت خارجہ کی ترجمان کے بیان سے دو روز قبل شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل غیور محمود نے پہلی مرتبہ ڈرون حملوں پر کھل کر اظہار ِخیال کرتے ہوئے ان کے موثر ہونے کا اعتراف کیا ۔رواں ہفتے افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے کے مرکزی شہر میران شاہ کادورہ کرنے والے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل محمود نے کہا ”فوج کو مختلف ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں کی اکثریت اہم عسکریت پسندوں کی ہے اور بے گناہ لوگوں کی تعداد نسبتاً کم ہے“۔

لیکن جنرل محمود نے کہا کہ یہ ڈرون حملے عام آبادی کو خوفزدہ اور ان کی نقل وحمل کو متاثر کرتے ہیں اور اس کا خمیازہ سکیورٹی فورسز کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اس دورے میں صحافیوں کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں کی تفصیلات پر مبنی ایک سرکاری دستاویز بھی دی گئی جس کے مطابق 2007 ء سے لے کر اس سال اب تک 164 ڈرون حملوں میں 964 دہشت گردمارے گئے ہیں جن میں 171 غیر ملکی تھے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب دوہرے قتل کے الزام میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی گرفتار ی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے فوج کی طرف سے ڈرون حملوں کی افادیت کا باضابطہ اعتراف بظاہر اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے کہ دو طرفہ سفارتی کشیدگی دہشت گردی کے خلاف دنوں ملکو ں کی سکیورٹی فورسز کے مابین تعاون کو متاثر کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG