رسائی کے لنکس

کُرم ایجنسی میں ڈرون حملے، 11 ہلاک


کُرم ایجنسی میں ڈرون حملے، 11 ہلاک

کُرم ایجنسی میں ڈرون حملے، 11 ہلاک

پاکستان میں حکام نے کہاہے کہ قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں پیر کو مبینہ امریکی میزائل حملوں میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے یا ڈرون سے پہلا حملہ ایک گاڑی پر کیا گیا جس میں کم از کم گیارہ افراد مارے گئے۔ حکام نے بتایا کہ چند منٹ بعد ایک قریبی مکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس واقعے میں ہلاکتوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کُرم ایجنسی پاکستان کے سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے اور اب تک یہاں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر مبینہ امریکی میزائل حملوں کے گنے چنے واقعات پیش آئے ہیں۔

ستائیس اگست 2010ء کے بعد کُرم ایجنسی میں یہ پہلا ڈرون حملہ ہے اور جس علاقے میں ہدف کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں پر سنی مسلمان قبائل آباد ہیں۔ ان دیہاتوں میں مبینہ طور پر طالبان کے حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کا غلبہ ہے۔

لیکن غیر جانبدار ذرائع سے ان الزامات کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ کُرم ایجنسی میں ایک طویل عرصے سے مقامی شعیہ اور سنی قبائل کے درمیان تصادم اور کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کے اس قبائلی علاقہ کا رابطہ پچھلے تین سالوں سے منقطع ہے۔

امریکہ عموماً میزائل حملوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتا ہے لیکن اس کے عہدے داروں کا ماننا ہے کہ ڈرون پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودالقاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے۔حالیہ دنوں میں ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور زیادہ تر کارروائیاں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کی جاتی رہیں ہیں۔

ان حملوں کے خلاف پیر کو شمالی وزیرستان میں”پہیہ جام“ ہڑتال کی جارہی۔

مقامی قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف کی جانے والی اس ہڑتال کا مقصد امریکہ پر زور دینا ہے کہ وہ یہ کارروائیاں فوراََ بند کر دے۔ ہڑتالی قبائلیوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ نا مانا گیا تو وہ پشاور اور اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کریں گے۔

باور کیا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کا ایک مضبوط گڑھ ہے جہاں سے شدت پسند سرحد پار کرکے افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج پر ہلاکت خیز حملے کرتے ہیں۔

پاکستانی حکومت ڈرون حملوں کی مخالف ہے کیوں کہ اس کے بقول ان میں عام قبائلیوں کی ہلاکت سے عسکریت پسندوں کی حمایت میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن وکی لیکس کی طرف سے افشا کی گئی خفیہ معلومات کے مطابق پاکستان کے سیاسی و عسکری رہنما پس پردہ ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG