رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں کے خلاف میران شاہ میں احتجاجی مظاہرہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین میزائل حملوں کو بند کرنے اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سمیت امریکی سی آئی اے کے اسلام آباد میں تعینات سابق سربراہ کو گرفتار کر کے اُن پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا مطالبہ کرتے رہے۔

شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ میں جمعہ کو لگ بھگ دوہزار مقامی رہائشیوں نے علاقے میں جاری مشتبہ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں طالب علموں اور کاروباری طبقے کے افراد نے بھی شرکت کی۔

اطلاعات کے مطابق بیسیوں مسلح طالبان جنگجو بھی اس موقع پر موجود تھے تاہم یہ واضح نہیں کے مظاہرے کے اہتمام میں اُنھوں نے کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین میزائل حملوں کو بند کرنے اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سمیت امریکی سی آئی اے کے اسلام آباد میں تعینات سابق سربراہ کو گرفتار کر کے اُن پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا مطالبہ کرتے رہے۔

گذشتہ سال بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی جاسوس طیاروں سے کم از کم ایک سو دس میزائل حملے کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کے اہداف افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تھے جو القاعدہ اور افغان طالبان جنگجوؤں کو مضبوط گڑھ سمجھ جاتا ہے اور جہاں سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج پر حملے کیے جاتے ہیں۔

امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار قرار دیتا ہے لیکن پاکستان میں ان کارروائیوں کی سرکاری اور عوامی سطح پر شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ ان ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت ہے جس کا تناسب ان کارروائیوں میں مرنے والے شدت پسندوں کی تعداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ناقدین کے خیال میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ بظاہر امریکی مطالبات کے باوجود علاقے میں موجود شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی طرف سے زمینی کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ ہے۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ دوسرے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے بعد کی صورت حال کو مستحکم کرنے سے پہلے کوئی نیا محاذ نہیں کھولا جاسکتا۔

XS
SM
MD
LG