رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں کے خلاف انوکھا ردعمل


ڈرون حملوں کےخلاف ملک میں مظاہرے میں کیے جاتے رہے ہیں

ڈرون حملوں کےخلاف ملک میں مظاہرے میں کیے جاتے رہے ہیں

اس منصوبے سے وابستہ ایک نوجوان نے بتایا کہ ’’ ہم ایک نقطہ نظر آنے والے انسان اور پھر بڑے پوسٹر پر اس کا اصل چہرہ دکھا کر فرق واضح کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں ڈرون حملوں سے متاثر ہونے والے ’عام شہریوں‘ کی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے چند نوجوانوں نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے کہ جس میں جہازی سائز کے بڑے بڑے پوسٹرز پر بچوں کی تصویر بنا کر انھیں کسی کھلے میدان یا کھیت میں آسمان کے رخ پر آویزاں کیا گیا۔

’’ناٹ اے بگ سپلیٹ‘‘ نامی اس منصوبے میں شامل فنکاروں کا کہنا ہے کہ فضا سے زمین پر انسانی کسی بہت ہی چھوٹے سے نکتے کی مانند دکھائی دیتے ہیں جب کہ وہ اپنے اس منصوبے کے ذریعے بتایا چاہتے ہیں کہ یہ نقطے درحقیقت جیتے جاگتے انسان ہیں اور ان سے انسانوں جیسا سلوک ہونا چاہیئے۔

اس منصوبے سے وابستہ ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ ’’ہم ایک نقطہ نظر آنے والے انسان اور پھر بڑے پوسٹر پر اس کا اصل چہرہ دکھا کر فرق واضح کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے توقع ظٓاہر کی کہ اس منصوبے سے ڈرون طیاروں کو اڑانے والوں میں کچھ ہمدردی پیدا ہو سکے گی۔

اس پاکستانی فنکاروں کے گروپ کو منصوبے میں فرانسیسی فنکار جے آر کا تعاون حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی تفتیش کار برائے انسداد دہشت گردی بین ایمرسن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’گزشتہ نو سالوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ 2013 کے دوران (پاکستان میں) ڈرون حملوں میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔‘‘

2004 میں افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں (ڈرون) کے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔

امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈرون کو ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے اور اس کے بقول ان حملوں میں اب تک القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیموں کے کئی اہم کمانڈر اور جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں ایک ایسے ہی حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ حکیم اللہ محسود بھی مارا گیا تھا۔

تاہم پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ یہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کےلیے مضر ہیں اور یہ ملک میں امریکہ مخالف جذبات بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں۔

ان ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کے علاوہ شہری ہلاکتیں بھی ہوئی اور حالیہ مہینوں میں اس جانب توجہ دلانے کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر آواز بلند کی بلکہ کئی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اپنی کوششوں کو تیز کیا۔
XS
SM
MD
LG