رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں مشتبہ ڈرون حملے میں ’چار شدت پسند ہلاک‘

  • شیم شاہد

سرکاری میڈیا کے مطابق بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے افغان سرحد کے قریب دتہ خیل کے علاقے میں شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر میزائل داغے گئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ کو ہونے والے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم چار مبینہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے افغان سرحد کے قریب دتہ خیل کے علاقے میں شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر میزائل داغے گئے۔

مرنے والوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی بتائے جاتے ہیں لیکن میڈیا کی اس علاقے تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کرتا آیا ہے۔

پاکستانی عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ ایسے وقت جب ملک کی سکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں تو اس طرح کے حملوں کا کوئی جواز نہیں۔

امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے اور اس میں کئی اہم شدت پسند کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج نے 15 جون کو ’ضرب عضب‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا تھا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ کارروائی جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

’’ہمیں امن بحال کرنا ہے، نا صرف اپنے ملک میں، بلکہ اس خطے میں امن بھی ہماری بقا ہے۔ اس تناظر میں پاکستانی افواج نے آپریشن شروع کیا۔۔۔ اور ہم اپنی سرزمین کو امن میں تبدیل کریں گے۔‘‘

پاکستانی فوج کے مطابق منگل کو شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی میں 20 مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یہ فضائی کارروائی کی گئی لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں گئیں۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور تعداد سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیوں کہ جس علاقے میں یہ آپریشن جاری ہے وہاں تک میڈیا کی رسائی بہت محدود ہے۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور اب تک اس علاقے میں لگ بھگ 1200 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG