رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ


2010ء کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 118سے زائد مبینہ امریکہ ڈرون حملے کیے گئے (فائل فوٹو)

2010ء کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 118سے زائد مبینہ امریکہ ڈرون حملے کیے گئے (فائل فوٹو)

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی میزائل حملے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کو درپیش مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

حالیہ دونوں میں پارلیمان میں متعدد مرتبہ پیش کیے گئےحکومتی موقف کو دہراتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے یا ڈرون کے ذریعے کیے جانے والے یہ حملے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی اور ایک نجی نیوز چینل کے مشترکہ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ ”ہم بہت محنت کر کے شدت پسندوں کو مقامی قبائل سے الگ کر دیتے ہیں لیکن ڈرون حملوں کی وجہ سے وہ پھر متحد ہو جاتے ہیں اور ہمارا کام مشکل ہو جاتا ہے۔“

ہفتے کی شب براہ راست نشر ہونے والے وزیر اعظم کے اس خصوصی پروگرام سے قبل قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سال 2011ء کے پہلے دن کم از کم تین مبینہ امریکی میزائل حملے کیے گئے جن میں 15 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

وزیر اعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل اتحادی ملکوں کو قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ پاکستان کی حدود میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ ”اور مجھے اُمید ہے کہ وہ قائل ہو جائیں گے۔“

پاکستان کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی میزائل حملے ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں اور ان میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی ہلاکت سے عوام میں پاکستان حکومت اور امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جب کہ امریکہ کا ماننا ہے کہ یہ القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف موثر ترین ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔

اُدھر امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ نے اتوار کواپنی ایک خبر میں کہا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ”گورگن سٹیئر“ نامی ایک نظام تیارکیا ہے جس کی مدد سے کسی مخصوص علاقے کی مکمل فضائی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ اس نظام کے تحت بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے میں نو کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کے ذریعے پورے علاقے میں حرکت کرنے والی چیزوں کی ویڈیو فلم زمین پر موجود فوجیوں اور دوسرے حکام کو فراہم کی جا سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق یہ نظام موسم سرما کے دوران افغانستان میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG