رسائی کے لنکس

228 ارکانِ پارلیمان کی رکنیت خطرے میں


قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

الیکشن کمیشن پیر کو خصوصی اجلاس میں ان اراکین پارلیمان کی طرف سے دوہری شہریت سے متعلق بیان حلفی جمع نہ کرانے کے معاملے کا جائزہ لے گا۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ قومی و صوبائی پارلیمان کے گیارہ سو
ستر میں سے دو سو اٹھائیس ارکان نے 9 نومبر کی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرتے ہوئے تاحال دوہری شہریت نا ہونے کا بیان حلفی جمع نہیں کرایا ہے، اس لیے امکان ہے کہ انھیں نا اہل قرار دے دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ گیارہ ارکان پارلیمان کو پاکستان اور کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے پر نا اہل قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ مرکز اور صوبوں میں تمام قانون سازوں سے ازسر نو بیان حلفی لیں کہ وہ صرف اور صرف پاکستانی شہری ہیں۔

الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات بجا لاتے ہوئے تمام اراکین کو 9 نومبر کی مہلت دی تھی مگر کمیشن کے ترجمان افضل خان نے اتوار کو وائس آف امریکہ کوبتایا کہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد بھی 228 قانون سازوں کی طرف سے ان کے ادارے کو بیان حلفی موصول نہیں ہوئے ہیں جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ ان کے پاس بھی دوہری شہریت ہے۔

’’قانون بہت واضح ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبر کے پاس دوہری شہریت نہیں ہونی چاہیئے۔ اُنھوں نے اب تک بیان حلفی نہیں دیا تو اس سے لگتا ہے کہ ان سب کے پاس بھی دوہری شہریت ہے، اور انھیں معلوم ہے کہ عدالت پہلے ہی اس بنا پر گیارہ ارکان کی رکنیت منسوخ کرچکی ہے۔‘‘

دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں پر پارلیمان کا رکن بننے پر پاپندی کے قانون پر بعض سیاسی جماعتوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے افضل خان نے کہا کہ ’’یہ لوگ پارلیمان میں بیٹھے ہیں اگر انہیں اعتراض تھا تو اس قانون کو تبدیل کر لیتے۔‘‘

ترجمان افضل خان نے بتایا کہ الیکشن کمشنر سابق جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کی صدارت میں پیر کو ایک خصوصی اجلاس ہو گا جس میں اراکین پارلیمان کی طرف سے بیان حلفی جمع نہ کرانے کے معاملے کا جائزہ اور اس ضمن میں مستبقل کی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

’’ (اجلاس میں) اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا بیان حلفی داخل نا کرانے والے اراکین کے خلاف پولیس کے پاس مقدمہ درج کیا جائے یا ماتحت عدالت کو یہ معاملہ بھیجا جائے۔‘‘

سپریم کورٹ میں اراکین پارلیمان کی دوہری شہریت کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد حکمران پیپلز پارٹی نے پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے یہ پابندی ختم کرنے کی کوشش کی مگر اپوزیشن اور بعض اتحادی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت نے اُسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔
XS
SM
MD
LG