رسائی کے لنکس

گردوغبار کا طوفان آئندہ 24 گھنٹوں میں صاف ہوجائے گا، ماہرین


اسلام آباد میں ایوان صدر اور پارلیمنٹ کی عمارتیں

اسلام آباد میں ایوان صدر اور پارلیمنٹ کی عمارتیں

صوبہ سندھ کے ساحلی علاقوں سے پاکستان میں داخل ہونے والی تیز ہواؤں کے باعث اٹھنے والے گردوغبار کا طوفان منگل کو تقریباً پورے پاکستان میں پھیل گیا تاہم محکمہ موسمیات کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کی شدت میں آئندہ 18 سے 24 گھنٹوں میں بتدریج کمی آنے کے بعد بدھ کی شام تک موسم صاف ہوجائے گا۔

پیر کی شام اس گردوغبار کے طوفان نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ منگل کی صبح تک اس طوفان نے بلوچستان اور پھر پنجاب کے بعد دارالحکومت اسلام آباد کے مطلع کو بھی گرد آلود کیے رکھا۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل عارف محمود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے اور اس سے قبل بھی مارچ اور اپریل کے مہینوں میں گرد آلود ہوائیں چلتی رہی ہیں۔ ’’کل صبح (بدھ) تک موسم بہت حد تک صاف ہوجائے گا اور شام تک مکمل طور پر صاف ہوجائے گا۔‘‘

گردوغبار کے اس طوفان سے جہاں ایک طرف ذرائع آمدورفت اور معمولات زندگی متاثر ہوئے وہیں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس کے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری اسپتال ’پولی کلینک‘ کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خاص طور پر پہلے سے سانس کی تکلیف یا پھر سینے کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے ایسے موسم میں صحت کی صورتحال مزید مشکل ہوجاتی ہے۔

’’گرد اڑتی ہے، پولن ہوتا ہے تو ایسے لوگ جنہیں دمہ ہے یا سینے کے انفیکشن کی شکایت ہے ان کے لیے بڑی مشکل ہوجاتی ہے اور دیگر افراد کے لیے بھی یہ اچھا نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اس موسم میں غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں جانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔

ڈاکٹر استوری کے بقول گردوغبار کا طوفان ختم ہونے اور موسم صاف ہونے کے بعد بھی تقریباً ایک ہفتہ یا دس دن تک اس کے اثرات فضا میں ہوتے ہیں جو کہ بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔’’ گرد اور مٹی درختوں پر پھول پتوں پر رہتی ہے، پانی کے جو کھلے ذخیرے ہوتے ہیں، یا ٹینکیاں وغیرہ تو اس میں بھی مٹی کے ذرات ملے ہوتے ہیں تو موسم صاف ہونے کے بعد بھی احتیاط برتنی چاہیے۔‘‘

وفاقی دارالحکومت کی گرد میں لپٹی شام

وفاقی دارالحکومت کی گرد میں لپٹی شام

پیر کی شام کو طوفان کے باعث کراچی اور پھر لاہور کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام متاثر ہوا تھا ور حکام نے فضائی آمدورفت کو معطل کردیا تھا۔

موسم میں بتدریج بہتری آنے کے بعد اب یہ ہوائی اڈے اپنی معمول کی کارروائی شروع کرچکے ہیں۔

محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ طوفان کے وقت کراچی کے ہوائی اڈے پر حد نظر 100 میٹر تک محدود ہو کر رہ گئی تھی جو اس وقت تقریباً ایک کلومیٹر تک بحال ہوچکی ہے۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ایران کے سرحدی علاقوں میں اٹھنے والے اس طوفان نے پہلے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کا رخ کیا جہاں ہوا کا دباؤ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس کے بعد 63 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے یہ گردآلود ہوائیں ملک کے دیگر علاقوں تک پھیل گئیں۔

XS
SM
MD
LG