رسائی کے لنکس

پاکستان: ایبولا سے نمٹنے کے لیے ہوائی اڈوں پر خصوصی انتظامات


شہری ہوا بازی کے محکمے ’سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کے سربراہ ائیر مارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ حکومت پاکستان نے ایبولا کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے نہایت سنجیدگی سے کوششیں کی ہیں۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام بین الااقومی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی جانچ اور تجزیے کے لیے مربوط انتطامات کیے گئے ہیں۔

شہری ہوا بازی کے محکمے ’سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کے سربراہ ائیر مارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ حکومت پاکستان نے ایبولا کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے نہایت سنجیدگی سے کوششیں کی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے شہری ہوا بازی کا محکمہ بھی حکومت کی مکمل معاونت کر رہا ہے۔ محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔

’’کاوئنڑ ان کے لیے کھول دیے گئے ہیں، ڈاکٹر وہاں موجود ہیں اور (متاثرہ افراد کو) الگ تھلگ رکھنے کی جگہ ان کو دے دی گئی ہے۔جو امیگریشن والے (حکام) ہیں ان سے تعاون کیا جا رہا ہے (وہ) دیکھتے ہیں کہ مریض کہاں سے آیا ہے اور اگر کوئی بیمار نظر آئے تو اس کو فوری چیک کیا جا رہا ہے۔‘‘

ائیر مارشل ریٹائرڈ محمد یوسف نے کہا کہ ایبولا خطرے سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کر لیے گئے ہیں اور ان کو موثر بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے مشاورتی عمل بھی جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں سے بھی کہا گیا کہ وہ اس بارے میں تعاون کریں۔

’’ایرلائنز (بین الاقوامی فضائی کمپنیوں) سے کہا گیا ہے کہ وہ ہم سےتعاون کریں ان کی جو ایجنٹ ہیں، جو ٹکٹ فروخت کرتے ہیں ان سے بھی کہا گیا کہ وہ ہمیں بتائیں کہ کون کہاں سے آ رہا ہے، مسافروں کو بھی بتائیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو بھی (ائیر پورٹ پر حکام سے رجوع کریں)۔‘‘

ایبولا کی وبا نے سب سے زیادہ مغربی افریقہ کے تین ملکوں لائیبریا، سیرالیون اور گنی کو متاثر کیا ہے جہاں اب تک لگ بھگ پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادراہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایبولا ایک بین الاقوامی خطرہ ہے اس سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔

اس سلسلے میں پاکستان کو بھی بیرون ملک خاص طور پر افریقی ممالک سے واپس آنے والے مسافروں کی اسکریننگ اور طبی عملے کو مناسب تربیت کے لیے کہا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے افریقی ممالک میں جاری امن مشن میں حصہ لینے والے پاکستانی فوجیوں کی بھی ملک واپسی سے قبل طبی جانچ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ابھی تک ایبولا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنا نہیں آیا۔

پاکستان کے محکمہ صحت عامہ سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت یعنی ’ڈبلیو ایچ او‘ کے عہدیدار پاکستان میں ایبولا وائرس کے خطرے کی روک تھام کے بارے میں کیے جانے والے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG