رسائی کے لنکس

ای سی او کانفرنس: علاقائی تعاون کے لیے پارلیمانی کردار پر زور


قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

یہ بد قسمتی ہے کہ کئی علاقائی تنظمیں بنیں مگر ان سے کوئی نتائج حاصل نہ ہوئے اور ہم ہمیشہ مغرب ہی کی طرف دیکھتے رہے۔

اقتصادی تعاون کونسل کی پارلیمانی اسمبلی میں رکن ملکوں کی طرف سے عہد کیا گیا کہ خطے کی اقتصادی و سماجی ترقی اور سکیورٹی سے متعلق تعاون کو بڑھانے میں پارلیمانی کردار کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں تنظیم کی دو روزہ کانفرنس میں دس رکن ممالک کے پارلیمان کے اسپیکرز سمیت قانون سازوں نے شرکت کی۔

ای سی او میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان، ترکی اور ازبکستان شامل ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ خواتین قانون سازوں کی نئی بننے والی تنظیم کو متحد اور فعال بنانے کے لیے اقدامات لیے جائیں گے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقتصادی تعاون کونسل گزشتہ کئی سالوں سے فعال نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیاء کو اب بین الاقوامی سطح پر کافی اہمیت حاصل ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس خطے کے ممالک مل کر اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے لوگوں کی خوشحالی اور ترقی کے لیے اقدامات کریں۔

اسپیکر نے کہا کہ قانون ساز ملکوں کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اس لیے اس خطے میں اقتصادی، معاشی، ثقافتی اور تجارتی تعاون کے لیے ان کے درمیان روابط انتہائی ضروری ہیں اور اسی مقصد کے لیے یہ اسمبلی بنائی گئی۔

’’ان ممالک میں تعاون بڑھے اور جہاں جہاں کئی عرصے سے دشواریوں کا سامنا ہے انہیں دور کر سکیں چاہے وہ توانائی سے متعلق ہیں یا تجارت، ٹیکس کے حوالے سے۔‘‘

افغانستان کی قانون ساز اسمبلی کے نائب اسپیکر نیامت اللہ غفاری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے امن و سلامتی بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلے میں تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے ہی اقتصادی و معاشرتی ترقی وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا ’’ یہ بد قسمتی ہے کہ کئی علاقائی تنظمیں بنیں مگر ان سے کوئی نتائج حاصل نہ ہوئے اور ہم ہمیشہ مغرب ہی کی طرف دیکھتے رہے۔ یہ علاقائی ممالک کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ ہمیں اپنی ترقی اور دیگر مسائل کے حل کی تلاش کے لیے خود کوشش کرنا ہوگی اور اس کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

اس کانفرنس کا انقعاد ایک ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ اور اس کی اتحادی افواج ایک منصوبے کے تحت آئندہ سال کے اواخر تک افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔

کانفرنس میں سرمایہ کاری، باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی نگرانی کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اقتصادی تعاون کونسل کی پارلیمانی اسمبلی کا آئندہ اجلاس کابل میں 2014ء میں ہوگا۔
XS
SM
MD
LG