رسائی کے لنکس

بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کے حالات بدل سکتے ہیں: قیصر بنگالی

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ صوبے کا بڑا مسئلہ جہاں بنیادی ڈھانچے کا نا ہونا ہے وہیں تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی بھی اس صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

اقتصادیات اور معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں موجود معدنیات سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا کر ملک کے اس پسماندہ ترین صوبے کو خلیجی ممالک جیسا امیر علاقہ بنایا جا سکتا ہے۔

صوبائی وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقتصادی امور قیصر بنگالی کے مطابق بلوچستان میں 40 قسم کی مختلف معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں بعض انتہائی قیمتی ہیں۔ لیکن ان کے بقول ان معدنی وسائل کو نکالنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی اور بعض دیگر انتظامی معاملات کی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا۔

"بلوچستان کی معیشت کی بنیادیں معدنیات پر رکھنی ہیں، ہم اگر یہ کامیابی سے کر لیں تو بلوچستان اتنا ہی امیر ہو گا جتنا کہ سعودی عرب یا اس طرح کے دوسرے ملک۔ یہاں ایسی معدنیات بھی ہیں کہ جن کی ایک کلو مقدار کے دس لاکھ ڈالر ملیں گے۔۔۔ لیکن ان کو نکالنے کے لیے یہ نہیں کہ بیلچا اٹھایا اور شروع ہو گئے، اس کے لیے جو صحیح ٹیکنالوجی ہوتی ہے وہ پوری ٹیکنالوجی ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہ باہر سے لانا پڑے گی۔"

ان کے بقول اس ضمن میں بین الاقوامی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں اس بات کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے کہ ان کا زیادہ فائدہ بلوچستان کو پہنچے نہ کہ کمپنیوں کو۔

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ صوبے کا بڑا مسئلہ جہاں بنیادی ڈھانچے کا نا ہونا ہے وہیں تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی بھی اس صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

"بلوچستان میں بے روزگاری کوئی مسئلہ نہیں ہے بلوچستان میں تقر یباً 15 لاکھ خاندان رہتے ہیں ایک خاندان کو اگر ایک نوکری دی جائے تو پندرہ لاکھ خاندانوں کو ایک نوکری مل جائے گی ابھی تقریباً ساڑھے سات لاکھ خاندانوں کو نوکریاں دی گئی ہیں مزید اتنی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ بلوچستان میں صرف ایک سو سکول قائم کئے جائیں جہاں بچوں کو فنی تعلیم دی جائے اور ان سکولوں سے اگر ایک سال میں ایک لاکھ بچے ان اداروں سے فارغ ہوں تو دس سال میں بلوچستان کے پاس ایک ملین تعلیم یافتہ بچے ہوں گے جو صوبے کے تمام شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن جائیں گے۔"

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ بے روزگاری کے باعث اکثر نوجوان شر پسند عناصر اور گروہوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں لہذا صوبے میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کر کے دہشت گردی سے نمٹنے میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔​

XS
SM
MD
LG