رسائی کے لنکس

حکومت کی طرف سے ٹیکسوں کے نفاذ کا دفاع


15فیصد فلڈ سرچارج بھی نافذ کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

15فیصد فلڈ سرچارج بھی نافذ کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں حکومت کی طرف سے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے فلڈ ٹیکس کے نفاذ سمیت دیگر اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حاصل ہونے والی اضافی رقم ملک میں اقتصادی استحکام کا باعث بنے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے نافذ کیے جانے والے اقدامات سے ایسے شعبوں کو بھی اب ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے جو اس پہلے ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اقدامات کے تحت صرف اضافی ٹیکس ہی نہیں لگائے گئے ہیں بلکہ سرکاری اخراجات میں بھی کمی گئی ہے جس سے تقریباً 100روپے تک بچائے جاسکیں گے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ٹیکس کے نفاذ سے عالمی مالیاتی اداروں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستانی حکومت اور قوم اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے مشکل فیصلے کیے جارہے ہیں۔

پاکستان میں اقتصادی ماہرین اور سیاسی مبصرین پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرف سے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے صدارتی حکم نامے کے ذریعے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ پر تنقید کر رہے ہیں اور اْن کا کہنا ہے کہ اس سے نا صرف حکومت کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بلکہ یہ اقدامات غربت میں اضافے کا باعث بھی بنیں گے۔

سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق فلڈ ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سمیت نافذ کیے گئے دیگر ٹیکسوں سے حکومت کو 53 ارب روپے تک مل سکیں گے۔ لیکن اُنھوں نے سیلاب آنے کے آٹھ ماہ بعد فلڈ ٹیکس لگانے کے فیصلے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس اُس وقت لگایا جانا چاہیئے تھا جب بین الاقوامی برادری سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کر رہی تھی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ صدارتی حکم نامے کے تحت جن ٹیکسوں کا نفاذ کیا گیا ہے اس کا بوجھ بھی اْن ہی افراد پر پڑے گا جو پہلے سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جو اْن کے بقول غیر منصافانہ فیصلہ ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نئے شعبوں کو بھی ٹیکس وصولی کے نظام میں لایا جارہا ہے۔

جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘کے سربراہ اور سیاسی تجزیہ کار احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ موجودہ حکومت اپنی اتحادی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے دباوٴ کے باعث نا صرف نئے ٹیکس کے نفاذ میں ناکام ہو رہی تھی بلکہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پرتیل کی قیمتیں اُس تناسب سے نہیں بڑھائی گئیں جس کی وجہ سے نظام حکومت چلانے میں حکمران جماعت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ ” انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ جو ہمارے معاہدے ہیں جس کے تحت ہم اْن سے پیسے وصول کر چکے ہیں، آخری دو قسطیں باقی ہیں اْس کے تحت ہمیں اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن پیدا کرنا ہے“۔

اْنھوں نے کہا کہ اب حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ وہ محصولات بڑھانے کے لیے یہ اقدامات کرتی۔ تاہم احمد بلال محبوب نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں کی مخالفت پرآرڈیننس کے ذریعے نئے ٹیکسوں کا نفاذ کیا ہے جس کی وجہ سے اْسے پارلیمان کے آئندہ اجلاسوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG