رسائی کے لنکس

اسٹیٹ بنک کے قائم مقام گورنر ارشد محمود وتھرا کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریباً 85 لاکھ کسانوں میں سے صرف 25 لاکھ ہی کو بنکوں سے حاصل ہونے والے قرضوں تک رسائی ہے۔

پاکستان کی معیشت میں موثر اور دیرپا انداز میں بہتری لانے کی غرض سے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے نئے پروگرام میں نجی اور سرکاری بنکوں کو رقوم فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ دیہاتی علاقوں میں کسانوں اور زراعت سے متعلق دیگر شعبوں سے منسلک آبادی کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جلد اور آسان قرضہ مہیا کر سکیں۔

جمعرات کو ’انوویٹو رورل اینڈ ایگریکلچر فنانس‘ نامی پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اسٹیٹ بنک کے قائم مقام گورنر ارشد محمود وتھرا کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں قرضے کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے مرکزی بنک نے دیگر بنکوں کے لئے قرضے کی شرح بھی دگنی کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریباً 85 لاکھ کسانوں میں سے صرف 25 لاکھ کی بنکوں سے حاصل ہونے والے قرضوں تک رسائی ہے جبکہ 23 فیصد چھوٹے کسان اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کی طرف سے قرضوں کی واپسی کی شرح بھی دوسرے شعبوں کی نسبت بہت بہتر ہے۔

اس پروگرام کے مشیر محمود نواز شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ زراعت اور اس متعلق دیگر شعبوں میں قرضوں کی بروقت فراہمی سے ملک کی زرعی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے۔

’’ہم نے صرف زمین گروی رکھ کر قرضہ دینے کا طریقہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے لگتا تو یہ ہے کہ قرضہ محفوظ ہے مگر پھر بھی بنک قرضہ نہیں دیتے کیونکہ جب وہ زمین بیچنے جاتے ہیں تو بکتی ہی نہیں۔ تو ہمیں نئے طریقے دیکھنے ہوں گے اور حکومت کو بھی مدد کرنا ہوگی اس سلسلے میں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سالوں میں دو بڑے سیلابوں سے پاکستان کا زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا مگر اس دوران زراعت کے لیے قرضوں کی فراہمی کی شرح میں زیادتی کی بجائے کمی واقع ہوئی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بنک سمیت تمام اداروں کو زراعت کے شعبے پر توجہ دینا ہوگی جو کہ ان کے مطابق معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

’’زراعت پر خرچ کی جانے والی رقم کا انعام صنعت کے مقابلے میں کافی جلد حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی بڑے پیمانے پر مشنری خریدنے اور ان کے لگانے کے لیے تین سال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہاں آپ نے صحیح لوگوں کو قرضہ دیا اور وہاں اگلی فصل پر آپ کو صلہ مل گیا۔‘‘

وزیر خزانہ کا کہنا تھا نواز شریف انتظامیہ زراعت کے شعبے کی بہتری اور فعال کارکردگی کے لیے نئی پالیسی مرتب کرنے کو بھی تیار ہے۔

پاکستان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے۔ ملک کی مجموعی پیداوار کا 20 فیصد سے زائد زراعت سے حاصل ہوتا ہے جبکہ مجموعی افرادی قوت کا 45 فیصد دیہی علاقوں میں موجود ہے۔
XS
SM
MD
LG