رسائی کے لنکس

معاشی پالیسی پر سیاستدانوں کا اجلاس طلب، حزب اختلاف کی تنقید


وزیراعظم نواز شریف کے ان کے بھائی شہباز شریف

وزیراعظم نواز شریف کے ان کے بھائی شہباز شریف

وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ معیشت کی بحالی کے لیے آئندہ کم از کم ایک دہائی میں ملک کی برآمدات کا حجم ایک سو ارب ڈالر جبکہ ٹیکسں کی شرح کم از کم 14 فیصد کرنا نا گزیر ہے۔

رواں سال اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف اور ان کے حکومتی عہدیداروں نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کو سب سے بڑا چلینج قرار دیتے ہوئے موثر پالیسیاں بنانے اور اقدامات کرنے کے اعلانات کیے اور کہا کہ اس کے لیے سیاسی اعتبار سے مشکل فیصلے بھی کیے جائیں گے۔

نج کاری اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلوں پر پارلیمان کے اندر اور باہر شدید تنقید کا سامنا کرنے کے بعد حکومت نے طویل المدت اقتصادی پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے آئندہ ہفتے سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات احسن اقبال کہتے ہیں کہ معیشت کی بحالی کے لیے آئندہ کم از کم ایک دہائی میں ملک کی برآمدات کا حجم ایک سو ارب ڈالر جبکہ ٹیکسں کی شرح کم از کم 14 فیصد کرنا نا گزیر ہے۔

’’ماضی میں ہماری پالیسیوں کی تبدیلی نے ہمیں نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہماری سمت طے ہو اور اس پر ہر آنے والے دور میں ہم آگے بڑھتے رہیں تاکہ اگلے دس یا پندرہ سالوں میں پاکستان کو ہم ایشیا کے اندر تیز ترین معیشت کے درجے پر لا سکیں۔‘‘

صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی امریکہ سے واپسی پر 26 اکتوبر کو ہونے والے اس اجلاس میں سیاست دانوں کے علاوہ اقتصادیات اور دیگر شعبوںٕ سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی شرکت کریں گے۔

توانائی کے بحران میں کمی کی غرض سے حکومت نے بجلی کی نجی پیداواری کمپنیوں کو 480 ارب کے زیر گردش قرضوں کی مد میں ادا کیے جبکہ دیگر قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے چھ ارب ستر کروڑ ڈالر کے قرضے حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

حال ہی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 32 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیر مملکت برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی معیشت سمیت تمام شعبوں میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کرنے کو تیار ہے تاہم انہوں نے مجوزہ اجلاس کو ایک ’’مذاق‘‘ قرار دیا۔

’’مسئلہ یہ آجاتا ہے کہ مینڈیٹ کی ہمیں ضرورت نہیں ہے کہ ہم کس سے مشاورت کریں۔ پھر جب پریشر آتا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ ہم آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں۔ عجیب و غریب صورتحال ہے۔ مجھے ان کی نہیں سمجھ آرہی۔ وزیروں کو کچھ پتا نہیں۔ پتا نہیں کون حکومت چلا رہا ہے۔‘‘

حکومت اس سے پہلے ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے بھی گزشتہ ماہ کل جماعتی کانفرنس منعقد کر چکی ہے۔

مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو ’’بے وقعت‘‘ بنا دیا ہے اور ملکی مسائل وہاں پر بحث کے لیے نہیں لائے جاتے۔

’’آج تک پبلک اکاونٹس کمیٹی نہیں بن سکی نا ہی قومی اسمبلی کی کمیٹیاں اور سینیٹ کی کمیٹیوں میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں آتا (جبکہ) پہلے ہر چیز آیا کرتی تھی۔ سمجھ نہیں پڑتی کہ کس سمت جا رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ماہرین اور بین اقوامی مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں۔
XS
SM
MD
LG