رسائی کے لنکس

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

  • یاسر منصوری
  • ج

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کے عوام ملک میں مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبے پر اثر انداز ہو گا۔

پاکستان میں حزب اختلاف اور حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے منگل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9.9 فیصد اضافے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف پارلیمان میں شدید احتجاج کیا ہے۔

عوامی حلقے اور پبلک ٹرانسپورٹ تنظیموں کی طرف سے بھی اس اقدام پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی سیاسی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ، اور حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) اور قائد اعظم (ق) کے اراکین نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ حکمران اتحاد میں شامل ایک اور اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔

مجموعی طور پر ایوان کا اجلاس ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر آپوزیشن کی تنقیدی تقاریر اورحکومت کے دفاعی بیانات کی نظر ہو گیا۔

ایم کیو ایم کی نمائندگی کرتے ہوئے جماعت کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اگر آئندہ تین روز میں حکومتی فیصلے میں نظر ثانی نہیں کی گئی تو اُن کی جماعت سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی لانے پر مجبور ہو جائے گی تاہم اُنھوں نے اپنے بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

حکومت نے یکم جنوری کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف ایم کیو ایم نے احتجاجاً حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، لیکن اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی شدید مخالفت کے پیش نظر حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ واپس لینے کے بعد یہ جماعت دوبارہ مخلوط حکومت میں شامل ہو گئی۔

پیر کو ایوان سے خطاب میں ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں کا موقف تھا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ’اوگرا‘ کے فیصلوں پر عمل درآمد سے قبل ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن تاحال اس کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں منعقد کیا گیا ہے اور نا ہی حالیہ نظرثانی کے بارے میں اُسے اعتماد میں لیا گیا ہے۔

تاہم پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی فرح ناز اصفہانی نے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے متعدد مرتبہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی لیکن اُن کے بقول دیگر جماعتوں کے اراکین نے اس بارے میں ہمیشہ عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت اب بھی کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔

فرح ناز اصفہانی کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمان کو سیاست سے بالاتر ہو کر حقائق کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیئے اور عوام کو ’گمراہ‘ کرنے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیئے۔

اوگرا کی طرف سے پیر کی نصف شب جاری کیے گئے بیان کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حکومت کے لیے عوام کو رعایت فراہم کرنا ناممکن ہو گیا تھا اور اس بوجھ کی صارفین تک منتقلی ناگزیر تھی۔

ناقدین کی رائے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے اقتصادی مسائل سے دوچار حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ اور اس کی مقبولیت میں مزید کمی آنے کا امکان ہے کیوں کہ جہاں اس فیصلے کے اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے وہیں حکومت مخالف جماعتیں اس صورت حال کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کریں گی۔

اوگرا کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2010ء کے بعد سے عرب ملکوں میں تیل کی قیمتوں میں 27 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن پاکستانی حکومت نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کی خاطر گذشتہ چار ماہ کے دوران ملک میں اس کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جس کے باعث قومی خزانے پر 13 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ بیان کے مطابق حالیہ اضافے کے باوجود حکومت کو ہر ماہ پانچ ارب روپے کا خسارہ ہو گا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 7.23 روپے فی لِٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 80.19 روپے فی لِٹر ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 7.76 روپے فی لِٹر کے اضافے کے بعد 86.09 فی لِٹر مقرر کی گئی ہے جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے اضافے کے بعد 77.95 فی لِٹر ہو گئی ہے۔

اوگرا نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے منظور کردہ فارمولے کے تحت کیا گیا جس کے ذریعے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت کو مد نظر رکھتے ہوئے ملکی سطح پر اس کا تعین کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو سنگین بحران کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو قومی خسارے میں کمی سے متعلق ہر ممکن اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کا اہم ترین ذریعہ محصولات میں اضافہ اور غیرضروری سرکاری اخراجات میں کمی ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی معیشت کا دارومدار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے حاصل کیے گئے قرضے پر ہے جس کی شرائط میں بھی ملک میں ٹیکس اصلاحات کو شامل کیا گیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

پاکستان کے عوام ملک میں مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبے پر اثر انداز ہو گا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بعض تجزیوں اور آپوزیشن رہنماؤں کے بیانات میں مخلوط حکومت کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر عوام کے مسائل دور نا کیے گئے تو پاکستان عرب دنیا کے مخلتف ملکوں میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کی طرز پر مظاہروں کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

تاہم پیر کو وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوری نظام رائج ہے جب کہ جن ملکوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے وہاں عوام نے کئی دہائی پر محیط آمرانہ اقتدار کا سامنا کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG