رسائی کے لنکس

مشکلات کے باوجود اقتصادی شرح نمو میں بہتری

  • ج

وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے صحافیوں کو سالانہ اقتصادی سروے کے چیدہ چیدہ نکات سے آگاہ کیا۔

وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے صحافیوں کو سالانہ اقتصادی سروے کے چیدہ چیدہ نکات سے آگاہ کیا۔

اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں 66 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جب کہ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران اس کا حجم تقریباً ایک ارب 29 کروڑ ڈالر تھا۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں عالمی کساد بازاری اور یورو زون بحران بتائی گئی ہے۔

وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے، ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور امن و امان کی خراب صورت کے باوجود حکومتِ پاکستان اقتصادی ترقی کی شرح نمو رواں مالی سال کے دوران بہتر بنانے میں کامیاب رہی ہے۔

معشیت کی کارکردگی سے متعلق سالانہ اقتصادی سروے کے اجراء کے موقع پر جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں بے بتایا کہ سال 12-2011ء کے دوران شرح نمو 3.7 فیصد رہی جو اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

’’اس طرح گزشتہ تین سال میں یہ سب سے زیادہ شرح نمو ہے، مگر ہمیں 5 سے 6 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔‘‘

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قمیتوں میں اضافے کا پاکستان کی معیشت پر براہ راست اثر ہوتا ہے اور اس ہی نوعیت کے اثرات کا دنیا کے دیگر ملکوں کو سامنا کرنا پڑا ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ 2011ء میں مون سون بارشوں اور سیلابوں نے بڑے پیمانے پر فصلوں کو تباہ کیا جس سے قومی معیشت کو تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

اُن کے بقول یہی وجوہات مہنگائی میں مسلسل اضافے کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ اُنھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حکومت کی جانب سے ہرممکن اقدامات کے باوجود ملک میں جاری توانائی کے بحران سے نمٹنے کی کوششوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی اقتصادی پالیسوں کی بدولت افراط زر کی شرح 2010ء کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے دوران قابو میں رہی کیونکہ پہلے 10 ماہ میں یہ شرح کم ہو 10.8 فیصد رہ گئی جب کہ گزشتہ سال افراط زر کی شرح 13.8 فیصد تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں رواں سال 10 فیصد کمی کی گئی ہے ’’لیکن دفاعی اخراجات میں کمی کا رسک (خطرہ) نہیں لیا جاسکتا۔‘‘

حفیظ شیخ نے کہا کہ اس مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ٹیکسوں کی وصولی تقریباً 1,450 ارب روپے رہی جب کہ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران یہ رقم 1,250 ارب روپے تھی۔ ’’اس طرح ٹیکس وصولی کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔‘‘

ٹیکسوں کی مد میں رواں مالی سال کے لیے 1,952 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے اور وفاقی وزیر نے توقع ظاہر کی کہ 30 جون تک یہ ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

’’بیرون ملک پاکستانیوں نے رواں برس 20 فیصد زیادہ زر مبادلہ وطن بھیجا۔ گزشتہ سال کے پہلے 10 ماہ میں نو ارب ڈالر آئے تھے جب کہ رواں مالی سال کے اس عرصہ میں تقریباً 11 ارب ڈالر بھجوائے گئے ہیں۔‘‘

اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں 66 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جب کہ گزشتہ سال اس عرصے کے دوران اس کا حجم تقریباً ایک ارب 29 کروڑ ڈالر تھا۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں عالمی کساد بازاری اور یورو زون بحران بتائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے اور سرکاری اداروں میں ہزاروں عارضی ملازمین کو مستقل نوکریاں دی گئیں۔

نیوز کانفرنس میں موجود ٹیکسوں کی وصولی کے وفاقی ادارے ’ایف بی آر‘ کے سربراہ ممتاز حیدر رضوی نے بتایا کہ چار لاکھ 63 ہزار ایسے نئے افراد کی نشاندہی کی جا چکی ہے جو انکم ٹیکس کے دائرے میں آتے ہیں مگر وہ ٹیکس ادا نہیں کر رہے تھے۔

’’ان میں سے دو لاکھ 38 ہزار کا اندراج کیا جا چکا ہے اور ان سے 10 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔‘‘

لیکن وفاقی وزیر خزانہ کے اور اقتصادی سروے میں کیے گئے دعوؤں کے برعکس مرکزی اسٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور ایک امریکی اخبار کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کی معیشت کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں۔

بقول اسٹیٹ بینک گورنر کے محصولات میں اضافے کی بجائے حکومت مرکزی بینک سے زیادہ سے زیادہ براہ راست قرضے لے رہی ہے یعنی دوسرے لفظوں میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG