رسائی کے لنکس

بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی تجویز منظور


وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے تجارت کی عالمی تنطیم ڈبلیو ٹی او کے تحت ہمسایہ ملک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی تجویز کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اسلام آباد میں بدھ کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت کے بعد کیا گیا۔

’’یہ فیصلہ ملک کے بہترین مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیوں کہ اس اقدام سے نہ صرف پاک بھارت تجارت میں اضافہ ہو گا بلکہ علاقائی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔‘‘

فردوس عاشق اعوان نے غیر جانبدار جائزہ رپورٹس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کو سالانہ 80 کروڑ ڈالر کا فائدہ ہو گا۔

’’بھارتی مصنوعات سے پاکستانی کی مارکٹیں بھری ہوئی ہیں اور اس غیر قانونی تجارت کی وجہ سے محصولات کی مد میں کوئی رقم حاصل نہیں ہوتی۔ اب ہم قانونی طریقے سے بھارتی مصنوعات کو پاکستانی مارکیٹوں میں آنے دیں گے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ ڈبلیو ٹی او کے تحت پاکستان پہلے ہی چین سمیت تقریباً 100 ممالک کو ایم ایف این کا درجہ دے چکا ہے۔

بھارت نے پاکستان کو 1996ء میں تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک یا ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا۔

وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں اس تاثر کو بھی رد کیا کہ اس فیصلے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان جو کوشیش کر رہا ہے وہ متاثر ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG