رسائی کے لنکس

دوطرفہ تجارت کے فروغ پر پاک بھارت مذاکرات


دوطرفہ تجارت کے فروغ پر پاک بھارت مذاکرات

دوطرفہ تجارت کے فروغ پر پاک بھارت مذاکرات

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے کے لیے دوطرفہ مذاکرات کا ایک نیا دور پیر سے نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے۔

دو روزہ بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت تجارت کے سیکرٹری ظفر محمود جب کہ بھارتی وفد کی سربراہی اُن کے ہم منصب راہول کھُلر کر رہے ہیں۔

دونوں عہدے دار پہلے ہی اس اُمید کا اظہار کر چکے ہیں کہ مذاکرات میں غیر محصولاتی رکاوٹوں کے خاتمے اور تجارت کے لیے اشیاء کی فہرستوں سمیت مختلف اُمور پر تفصیلاً تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نئی دہلی آمد پر ظفر محمود نے کہا تھا کہ پاکستانی وفد ’’دوطرفہ تجارتی روابط کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے یہاں (بھارت) آیا ہے‘‘ ۔

وفاقی کابینہ کی طرف سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک، یعنی ایم ایف این، کا درجہ دینے کے حالیہ اعلان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ٹی او‘ کے رکن ہیں، جس کے قوانین کے تحت تمام ارکان کو ایک دوسرے کو ایم ایف این کا درجہ دینا لازمی ہے۔

سیکرٹری تجارت ظفر محمود

سیکرٹری تجارت ظفر محمود

’’آپ ایم ایف این کے اصول پر عمل درآمد کیے بغیر اپنے تجارتی روابط معمول پر نہیں لا سکتے، تو اس لیے ہم اس موضوع پر بھی بات چیت کریں گے۔‘‘

بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے اعلان سے قبل نئی دہلی نے پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک آزادانہ رسائی کی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

نئی دہلی ایئر پورٹ پر پاکستانی وفد کا استقبال کرنے کے بعد بھارتی سیکرٹری رواہول کھُلر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تقریباً چھ ماہ قبل ہونے والی بات چیت کے تناظر میں پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ’’ہم تیزی کے ساتھ آگے بڑھے ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ یہ سلسلہ اس ہی رفتار سے جاری رہے گا۔‘‘

پاکستانی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق مذاکرات میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاملات بھی زیر غور آنے کی توقع ہے۔ خیال ہے کہ پاک بھارت وفود ایک دوسرے کے ملکوں میں بینکوں کی شاخیں کھولنے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان اور بھارت آئندہ تین سالوں میں دوطرفہ تجارت کے سالانہ حجم کو موجود تقریباً 2.65 ارب ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاک بھارت تجارت کی وزارتوں کے مابین مذاکرات کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم مالدیپ میں ملاقات کے بعد یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کی گھڑی آن پہنچی ہے، اور آئندہ مذاکرات تعمیری اور نتیجہ خیز ہونے چاہیئیں۔

وزیر خراجہ حنا ربانی کھر نے مالدیپ سے واپسی پر اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کا فقدان صفر کی سطح پر آ گیا ہے اور اب تعلقات کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG