رسائی کے لنکس

کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بحال

  • عمیر ریاض

کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بحال

کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بحال

کراچی میں سات روز تک جاری رہنے والی قتل و غارت گری کی وارداتوں کے بعد صورتِ حال جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی پرامن رہی، جب کہ سندھ کے وزیرِ اطلاعات نے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس طلب کیے جانے کی تردید کی ہے۔

جمعرات ہی کو وزیرِاعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال اور سرکاری سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کا اجلاس جمعہ کو وزیراعلیٰ ہائوس میں ہوگا۔

تاہم صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے کل جماعتی کانفرنس بلائے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کی سیاسی جماعتوں سے صرف رابطے کیے جارہے ہیں۔

دریں اثناء شہر میں امن و امان کی صورتِ حال معمول پر آجانے کے بعد جمعرات کو کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو گئیں۔ شہر میں سات روز تک جاری رہنے والی قتل و غارت کی وارداتوں کے بعد تاجروں نے منگل کی شام بازار اور مارکیٹیں کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم خوف و ہراس کے باعث عوام بازاروں کا رخ کرنے سے گریزاں تھے۔

تاجر حلقے اُمید ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر امن و امان کی موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو عید الفطر کی تیاریاں اور خریداری روایتی صورت اختیار کر لیں گی۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق رمضان المبارک میں خریداری کی شرح میں عموماً چار گنا تک اضافہ ہو جاتا ہے لیکن حالیہ پر تشدد واقعات کے باعث صارفین بازاروں کا رخ نہیں کر رہے تھے جس کے سبب تاجروں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔

شہر میں تشدد کی حالیہ لہر گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی جنھیں اغواء کے بعد تشدد کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

واقعہ کے بعد سات روز تک جاری رہنے والی پرتشدد کاروائیوں، اغواء کے بعد قتل اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ایم این اے واجا کریم داد سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم پولیس اور رینجرز کی جانب سے منگل کی شب شروع کیے جانے والے ’’ٹارگٹڈ آپریشن‘‘ کے بعد شہر میں امن و امان کی صورتِ حال معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے بدھ کی شب بھی شہر کے کچھ علاقوں میں چھاپے مارے اور ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ رحمن ملک کے مطابق کراچی میں جاری آپریشن میں گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد 90 ہو گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا دورہِ کراچی

دریں اثناء وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں شہریوں کا قتلِ عام بند ہونا چاہیئے اور حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے۔

میاں شہباز شریف گزشتہ شب کراچی پہنچے تھے جہاں انھوں نے جمعرات کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کے گھروں پر جاکر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔

بعد ازاں کراچی کے تاجر رہنماؤں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام اور مجرموں کی گرفتاری کرنا حکومت کا کام ہے، تاہم ان کے بقول ان سے جو بن پڑا وہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے اور انھیں حالات سے خوف زدہ ہو کر اپنا سرمایہ شہر سے باہر لے جانے کی ضرورت نہیں۔

XS
SM
MD
LG