رسائی کے لنکس

بجٹ میں عوام کے لیے مراعات کے اعلانات متوقع


وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اُن کی کابینہ میں شامل وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ (فائل فوٹو)

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اُن کی کابینہ میں شامل وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ (فائل فوٹو)

پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اپنے دورِ اقتدار کا پانچواں اور آخری بجٹ یکم جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں عوام کو ’’ریلیف‘‘ کی فراہمی کے لیے کئی مراعات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

قومی معیشت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے، توانائی کے بحران اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات سے براہ راست عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں مجوزہ مراعات کا اعلان پیپلز پارٹی کی جانب سے آئندہ انتخابات سے پہلے عوامی حمایت حاصل کرنے اور اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، جب کہ ملک بھر میں ایک لاکھ بے زور گار افراد کو ملازمتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

اُن کے بقول بجلی کی پیداوار میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہو گا تاکہ ملک میں توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

لیکن معاشی تجزیہ کار مجوزہ مراعات کے طویل المدتی یا پائیدار ہونے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے سابق مشیر ثاقب شیرانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ قدرے سخت معاشی حالات میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے مراعات کی گنجائش موجود نہیں، لیکن اُن کے بقول انتخابی سال میں بجٹ پیش کرتے وقت پاکستان میں کوئی بھی حکومت عوام کو ناراض کرنے کے خطرہ مول نہیں لیتی ہے۔

’’ملازمتیں دینے کا مقاصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے، اس سے حکومت کا خسارہ بڑھے گا، مزید نوٹ چھاپے جائیں گے جس سے عام آدمی کے لیے افراط زر (مہنگائی) میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے یہ عوام دوست بجٹ نہیں ہو گا۔‘‘

ثاقبب شیرانی نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں معیشت کو افراط زر، روپے کی غیر مستحکم قدر اور قرضوں کے بوجھ میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہے گا اور انتخابات کے بعد نئی حکومت کے لیے معشیت کی بہتری اور عام آدمی کو ریلیف ایک اہم چیلنج ہوگا۔

XS
SM
MD
LG