رسائی کے لنکس

پاک امریکہ اقتصادی و تجارتی تعاون پر بات چیت

  • یاسر منصوری

پاک امریکہ اقتصادی و تجارتی تعاون پر بات چیت

پاک امریکہ اقتصادی و تجارتی تعاون پر بات چیت

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے منیجمنٹ اینڈ ریسورسز تھامس آر نائیڈز نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان سے اپنے روابط کو انتہائی اہمیت دیتا ہے کیوں کہ پُرامن اور مستحکم پاکستان سب کے مفاد میں ہے۔

تھامس نائیڈز نے پیر کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ پاکستانی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتوں میں دوطرفہ روابط اور اقتصادی و تجارتی تعاون پر تفصیل سے بات چیت کی۔

وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز نے کہا امریکہ اور پاکستان مشترکہ مقاصد کی نشاندہی اور اُن کے حصول لے لیے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کا اندازہ پاکستان کے لیے امریکہ کے غیرفوجی امداد کے منصوبوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

تھامس نائیڈز نے بتایا کہ امریکہ تربیلا ڈیم کی تجدید کے لیے حکومت پاکستان کی مدد کر رہا جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو اس وقت عوام کے معیار زندگی پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

امریکی وزیر نے دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطے بڑھانے کی کوشش میں طالب علموں اور ماہرین کے تبادلے کا بھی ذکر کیا جو اُن کے مطابق کسی بھی دوسرے ملک سے اس شعبے میں تعاون سے وسیع ہے۔

وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ حنا ربانی کھر نے پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی تک رسائی دینے کی درخواست کو دہراتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی جنگ میں مرکزی کردار ادا کرنے کے باعث ملکی معیشت کو جو نقصانات ہوئے ہیں ان کے تناظر میں پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی درخواست وزن رکھتی ہے۔

تھامس نائیڈز نے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے بھی الگ ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ نجی شعبے میں تعاون سے متعلق اُمور زیر بحث آئے۔

ملاقات کے بعد حفیظ شیخ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو معاوضے کی تقسیم سے متعلق حکومت کے منصوبے کے لیے امریکہ نے اپنے وعدے کے مطابق 19 کروڑ ڈالر کی رقم پاکستان کو فراہم کر دی ہے جس سے 10 لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔

پاکستان کو درپیش سنگین مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے تھامس نائیڈز کا کہنا تھا کہ انتہاپسندوں نے اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اور عسکریت پسندی کے خلاف پاکستانی افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو امریکہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اُنھوں نے کہا امریکی حکومت اور اس کے عوام دہشت گردوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کی ہلاکت پر پاکستانی عوام کے غم میں شریک ہیں۔

پاکستانی عہدے داروں سے بات چیت کو ”انتہائی تعمیری“ قرار دیتے ہوئے امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں دونوں ملک درست ڈگر پر چل رہے ہیں لیکن مستقبل میں یہ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے بہت کام کرنا ہوگا۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی تاہم اس واقعے کے بعد وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت کئی اعلیٰ عہدے داروں کے دورہ پاکستان کے بعد بظاہر اس تناؤ میں کمی آئی ہے۔

پیر کو وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عہدے داروں کو اپنی سیاسی مجبوریوں کومد نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا اور اس بارے میں پاکستانی پارلیمان کی مشترکہ قرارداد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تیرہ اور چودہ مئی کو منظور کی گئی قرارداد میں پاکستان سرزمین پر امریکی فورسز کی یک طرفہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG