رسائی کے لنکس

امریکی امداد حاصل کرنے یا نہ کرنے پر نیا تنازع

  • افضل رحمٰن

امریکی امداد حاصل کرنے یا نہ کرنے پر نیا تنازع

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے امریکی امداد کے منصوبے منسوخ کرنے کے پنجاب حکومت کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن امدادی منصوبوں کو روکا جا رہا ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق تعلیم، صحت اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں سے ہے۔

اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ ’’یہ امداد تو بڑی مشکل سے ہم لائیں ہیں اپنے لوگوں کے لیے، تو آپ نہیں چاہتے کہ پنجاب کے لوگوں کو صاف پانی ملے،نہریں ٹھیک ہوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی آپ کو بیرونی امداد نہیں چاہیئے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں تو اپنی من مانی نہیں کر سکتی اس لیے صوبہ پنجاب میں پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے کہا جا رہا ہے کہ ’’ہم سارے فارن معاہدے کینسل کر دیں گے۔‘‘

امریکی امداد حاصل کرنے یا نہ کرنے پر نیا تنازع

امریکی امداد حاصل کرنے یا نہ کرنے پر نیا تنازع

پنجاب حکومت کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے وائس آ ف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کی تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت نے بیرونی امداد ضرور رد کی ہے مگر کوئی منصوبہ روکا نہیں ہے۔

’’تمام منصوبوں پر کام جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ ہم نے صرف یہ کہا ہے کہاان منصوبوں کو ہم اپنے وسائل سے مکمل کریں گے، ہمیں اس کے لیے غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یہ 22 ارب (روپے) کے منصوبے تین سال کے لیے تھے تو 18 ارب تو ہم ان منصوبوں کے لیے غیر ملکی مدد جو تھی اس سے انکار کرنے سے پہلے ہی مہیا کر چکے تھے۔‘‘

پنجاب کے وزیر قانون یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے صوبے نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں کو امریکی فورسز کی اُس یک طرفہ کارروائی کے خلاف احتجاجاً منسوخ کیا ہے جس کے نتیجے میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا ۔ پاکستان دو مئی کو ایبٹ آباد میں ہونے والی امریکی کارروائی کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

بین الاقوامی ترقی سے متعلق امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے پاکستان میں سربراہ اینڈریو سِسن یہ کہہ چکے ہیں کہ تعلیم ، توانائی ،اقتصادی اور سماجی شعبوں میں پاکستان میں شروع کیے گئے طویل المعیاد منصوبوں میں سے اکثر کے چونکہ مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں لہذا ان کے بقول امدادی پروگرام کی معطلی سے دونوں ملکوں میں اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG