رسائی کے لنکس

سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین طاہر محمود کا کہنا تھا کہ زیادہ تر سرکاری اداروں کے حصص کی خرید و فروخت میں غیر قانونی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی کراچی اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 میں 28 ہزار سے زائد پوائنٹس تک اضافہ ہوا جو کہ ماہرین کے مطابق کچھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مظہر ہے۔

سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین طاہر محمود نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول اور سرمایہ کاروں کے اسٹاک ایکسچینج پر اعتماد کو مستحکم کرنے کے لیے قوانین اور ضوابط میں ترمیم کی جائے گی۔

’’ایک بروکیج ہاؤس آپ کا ایک اکاؤنٹ تو کھولتا ہے لیکن شیئرز کی موومنٹ کا کنٹرول وہ اپنے پاس رکھتا تھا تو دیوالیہ ہونے کی صورت میں مسئلہ بن جاتا تھا اب شیئرز بلکہ فنڈز پر کنٹرول بھی اس سے لیا جا رہا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ان دو اقدامات سے سرمایہ کاروں کی 90 فیصد شکایات ختم ہوجائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم جلد متعارف کروائی جائیں گی جبکہ غیر قانونی طریقے سے حصص کی خرید و فروخت کے لیے مجوزہ قانون کو بھی حتمی شکل دی جا چکی ہے جس کے تحت یہ ایک قابل سزا جرم ہوگا۔ طاہر محمود کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات زیادہ تر سرکاری اداروں کے حصص کی خرید و فروخت میں ہوتے ہیں۔

’’اگر آپ مجھے خبر دیتے ہیں کہ میرا ادارہ 5 لاکھ شئیرز فروخت کررہا ہے تو میں پہلے ہی خرید لیتا ہوں اور جب ان کی فروخت ہوتی ہے تو ظاہری بات ہے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو میں بیچ دیتا ہوں۔ یہ غیر قانونی عمل ہے۔ ان کی تحقیق کرنا بہت مشکل ہے تو دس میں سے ایک ڈیل پکڑی جائے اور اس میں آپ صرف جرمانہ دے دیں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔‘‘

نواز شریف انتظامیہ کے اقتصادی شعبے میں اصلاحات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے حال ہی میں 6 ارب 70 کروڑ ڈالرز قرضے کی ایک اور قسط پاکستان کے لیے جاری کی ہے۔

پاکستان کے یورو بانڈ پر بھی سرمایہ کاروں کا ردعمل سرکاری عہدیداروں کے بقول مثبت رہا جس سے ملک کو 2 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کا پاکستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں کہنا تھا۔

’’اس حکومت کے بارے میں تاثر ہے کہ یہ کاروبار دوست ہے تو جو ہم نے ابھی دیکھا ہے کہ کمپنیاں بننے میں اضافہ ہوا اور پھر ہمارے پاس 60 ہزار کمپنیاں ہیں جس میں کچھ فیصد غیر فعال ہیں تو اب لوگ اپنی کمپنیوں کو بحال کر رہے ہیں۔‘‘

رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 38 فیصد سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے تاہم آئی ایم ایف اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی کمزور معیشت کو بحال کرنے کے لیے نواز انتظامیہ کو اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا ہوں گی جن میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں مراعات کا خاتمہ اہم ترین ہیں۔
XS
SM
MD
LG