رسائی کے لنکس

ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے 2010ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی جس میں شامل ایک شق کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت اور پارلیمان نے بنیادی تعلیم کی فراہمی کی شق کے نفاذ کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد نے مشترکہ طور پر ایک قومی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد متعلقہ حلقوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر وہ بچوں کو تعلیم کی مفت فراہمی کی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔

پاکستان کے ہونہار نوجوان طالب علم علی معین نوازش کو ’’تعلیم و آگہی‘‘ کے عنوان سے شروع کی گئی اس مہم کا خیر سلگالی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ ایک ماہ پر محیط اس مہم کے دوران بنیادی تعلیم کی فراہمی سے متعلق مطالبات کی فہرست پر بچوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ افراد سے دستخط کروائے جائیں گے۔


مطالبات کی فہرست میں حکومت سے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے چار فیصد رقم مختص کرنے کے علاوہ وسائل کے بروقت اور موثر استعمال کو یقنی بنانے کے لیے لائحہ عمل وضع کرنا بھی شامل ہے جب کہ سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ تعلیم کو بطور بنیادی حق اپنے منشور میں بھی شامل کریں۔

نیشنل پریس کلب میں منعقدہ تقریب کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے علی معین نوازش نے کہا کہ پاکستان کی لگ بھگ 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور تعلیم کی فراہمی ہی سے یہ لوگ پاکستان کو درپیش مشکلات پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

’’جو سب سے بڑا مسئلہ ہے اور جو زیادہ ضروری مسئلہ ہے وہ بچوں کا مستقبل، اس ملک کا مستقبل اس کو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ مہم لوگوں کو بھی اور حکومت کو بھی یاد کرانے کے لیے ہے کہ تعلیم اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اگر ہم نے اس کی طرف ابھی دھیان نا دیا تو مستقبل میں ہمارے لیے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے‘‘۔

اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ وہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور بقول حکمران پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی ملک عظمت کے نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی ان کی جماعت کی ترجحیات میں شامل ہے۔ ’’مفت تعلیم والی جو بات ہے اس پر حکومت آنے والے دنوں میں، چند دنوں میں عمل درآمد کے لیے اپنے اقدامات اٹھائے گی‘‘۔

پاکستان کے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 2 فیصد سے بھی کم رقم مختص ہے جس پر ماہرین کو تحفظات ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم چار فیصد شعبہ تعلیم پر خرچ کرنے ہی سے حکمران مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان ایجوکیشن ٹاسک فورس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 30 لاکھ بچے ایسے ہیں جو کبھی اسکول گئے ہی نہیں جب کہ پرائمری تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد ستر لاکھ ہے۔

XS
SM
MD
LG