رسائی کے لنکس

جامعات میں ’انکیوبیشن سینٹرز‘‘ کے قیام کا منصوبہ

  • حسن سید

جامعات میں ’انکیوبیشن سینٹرز‘‘ کے قیام کا منصوبہ

جامعات میں ’انکیوبیشن سینٹرز‘‘ کے قیام کا منصوبہ

اس ہفتے اسلام آباد میں پاکستان بھر کی جامعات کے نمائندوں کے لیے ایک ورکشاپ ہوئی جہاں امریکہ سے آئے ہوئے ماہر تعلیم سٹیون پرائس اور دوسرے ماہرین نے شرکاء کو اپنی اپنی جامعات میں انکیوبیشن مراکز قائم کرنے اور کامیابی سے چلانے کی تربیت دی۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روز گاری کو کم کرنے اور تعلیم سے فارغ ہونے والے نو جوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول آسان بنانے کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ نے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں ’’بزنس انکیوبیشن سینٹرز‘‘ کے نام سے خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

یہ مراکز بے اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر فارغ التحصیل افراد کو یہ موقع فراہم کریں گے کہ وہ سائنس ، اقتصادیات ، انفارمیشن ٹیکنا لوجی یا کسی بھی اور شعبے میں اپنی تحقیق ، جدید تصور یا کوئی ایسی تجویز فروخت کر سکیں جو ملک کے اندر اقتصادی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کے لیے مدد گار ہو۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ایک عہدیدار نوشابہ اویس نے کہا کہ یہ مراکز طالب علموں کو اقتصادی اور صنعتی میدان میں ان کے متعلقہ شعبوں سے منسلک کرنے میں کردار ادا کریں گے۔اس طرح ان کے تصورات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا جس سے نا صرف ان کے اپنے لئے بلکہ دوسرے کئی افراد کے لیے بھی روز گار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

ایک ایسے وقت پر جب پاکستان میں اعلی تعلیم کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے بزنس انکیوبیشن مراکز کس طرح کامیابی سے کام کر سکتے ہیں نوشابہ اویس کا کہنا تھا کہ ان مسائل نے ہی در اصل ایسے مراکز کی ضرورت کو جنم دیا ہے تاکہ اندرون ملک نو جوانوں کو بہتر مستقبل فراہم کر کے جدید علوم کو فروغ دیا جائے اور علم پر مبنی اقتصادی ترقی ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے مراکز جو اس وقت نَسٹ اور کامسیٹ سمیت تقریباً پانچ جامعات میں موجود ہیں ان قیام کے لیے فی مرکز دو کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم درکار ہوگی جو اعلیٰ تعلیمی کمیشن یو ایس ایڈ کی اعانت سے فراہم کرے گا۔

سلمان الحق جنہوں نے حال ہی کمپیوٹر انجیئرنگ میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نَسٹ کے انکیوبیشن مرکز میں شمولیت اختیار کی ہے، کہتے ہیں ’’مجھے کسی بھی ادارے میں نوکری کی در خواست دینے کی ضرورت نہیں پڑی ،میں نے ایک سوفٹ ویئر کے سلسلے میں اپنی تجویز پیش کی جس کے بعد سے میں یہاں کام کر رہا ہوں اور میری آمدن بھی بہت اچھی ہے‘‘۔

اس ہفتے اسلام آباد میں پاکستان بھر کی جامعات کے نمائندوں کے لیے ایک ورکشاپ ہوئی جہاں امریکہ سے آئے ہوئے ماہر تعلیم سٹیون پرائس اور دوسرے ماہرین نے شرکاء کو اپنی اپنی جامعات میں انکیوبیشن مراکز قائم کرنے اور کامیابی سے چلانے کی تربیت دی۔

سٹئون پرائس کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت مغربی دنیا میں ان مراکز کا تصور تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور پاکستان میں ان کا قیام امریکی ماہر کے مطابق اقتصادی ترقی میں بہت مدد دے سکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG