رسائی کے لنکس

70 لاکھ بچے پرائمری تعلیم سے محروم


70 لاکھ بچے پرائمری تعلیم سے محروم

70 لاکھ بچے پرائمری تعلیم سے محروم

پاکستان ایجوکیشن ٹاسک فورس کی ملک میں تعلیم سے متعلق رواں سال کی ہنگامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 لاکھ بچے ایسے ہیں جو کبھی اسکول گئے ہی نہیں اور پاکستان میں پرائمری تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد 70 لاکھ ہے جو ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی کل آبادی کے برابر ہے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ فزکس کے پروفیسر عبدالحمید نیئر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مسئلہ صرف بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے کا نہیں بلکہ معیار تعلیم خاص طور پر نصاب میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ’’جو کتابیں بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں ان کا جائزہ لینے سے فوری طور پر یہ دھچکا لگتا ہے کہ یہ کتابیں بہت تنگ ذہن لوگوں کو پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔‘‘

پروفیسر عبدالحمید نیئر نے کہا کہ 1980ء کی دہائی میں اسلامی نظریات کے فروغ کو پاکستان کے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا جو اب بھی کسی نا کسی صورت نصاب میں شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 2006ء میں حکومت نے ماہرین تعلیم کی مدد سے ماضی کی خرابیوں سے پاک نصاب تیار کیا لیکن اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

عبدالحمید نیئر نے کہا کہ موجودہ دورہ حکومت میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کے تحت ملک میں پانچ سے 14 برس تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم کے بنیادی حق سے متعلق آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس کے لیے مالیاتی بجٹ میں وسائل مختص کرے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ مالی سال 2012 - 2011 کے بجٹ میں بھی شعبہ تعلیم کے لیے ملک کی کل مجموعی پیداوار کا محض دو فیصد سے بھی کم مختص کیا گیا۔

عالمی یوم خواندگی کے موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تعلیم ناصرف اقتصادی و معاشرتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشرے میں انتہاپسندانہ رجحانات کا خاتمہ بھی تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے بھی نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ ’’ تعلیم سے آراستہ نوجوان جنہیں روزگار کے وسائل تک رسائی حاصل ہو، ان کا دہشت گردوں کے ہاتھ لگنا ممکن نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کی فراہمی اب صوبائی معاملہ ہے لیکن وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبوں کی مدد اور رہنمائی کرتی رہے گی۔

پروفیسر عبدالحمید نیئر

پروفیسر عبدالحمید نیئر

ماہر تعلیم پروفیسر عبدالحمید نیئر کا کہنا ہے کہ تعلیم بلاشبہ انتہا پسندی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ’’تعلیم صرف اسی لیے ضروری نہیں ہے کہ لوگوں کو شدت پسندی سے دور رکھے، تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ اگر ہمیں بطور قوم قائم رہنا ہے تو یہ کام تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں اسکول تعمیر کرنے کی ضرورت ہے وہیں اساتذہ کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بنائی گئی ایجوکیشن ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ سال جولائی اور اگست میں سیلابوں سے بھی ہزاروں اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا اور رپورٹ کے مطابق سندھ میں 35 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 23، بلوچستان میں 18 اور پنجاب میں 10 فیصد اسکول ایسے ہیں جن کی عمارتیں مخدوش ہو چکی ہیں اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

XS
SM
MD
LG