رسائی کے لنکس

تعلیمی نصاب میں انتہا پسند رجحانات کو فروغ دینے والا عنصر خارج

  • حسن سید

تعلیمی نصاب میں انتہا پسند رجحانات کو فروغ دینے والا عنصر خارج

تعلیمی نصاب میں انتہا پسند رجحانات کو فروغ دینے والا عنصر خارج

واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے تحقیقی جائزے پر مبنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں طرز تعلیم اور نصاب عدم برداشت پر مبنی نظریات پیدا کرتا ہے جس سے عسکریت پسندی کے رجحانات فروغ پاتے ہیں۔

پاکستانی عہدیداروں نے ایک امریکی تحقیقی ادارے کے اس جائزے کی اگرچہ واضح طور پر تردید یا تصدیق نہیں کی کہ ملک کا ناقص تعلیمی نظام عسکریت پسندی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔تاہم وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تعلیمی نظام میں نقائص موجود ہیں اور سابقہ نصاب میں انتہا پسندانہ رجحانات کا عنصر بھی شامل تھا جسے ان کے مطابق اب درسی کتابوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ”ہم نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت کچھ ایسے انتہا پسندانہ موضوعات یا ایسے افراد جنھیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا تھا انھیں نصاب سے ہٹایا ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور حقوق العباد پر مبنی اسلامی تعلیمات کو اجاگر کیا ہے“۔

واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے تحقیقی جائزے پر مبنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں طرز تعلیم اور نصاب عدم برداشت پر مبنی نظریات پیدا کرتا ہے جس سے عسکریت پسندی کے رجحانات فروغ پاتے ہیں۔

ادارے نے اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں دی جانے والی تعلیم طلبہ کو موٴثر طور پر روزگار کے حصول کے لیے تیار نہیں کر پاتی جس سے نئی نسل مایوسی کا شکار ہوتی ہے اور نتیجاََ جنگجوؤں کے طور پر بھرتی ہو جاتی ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق مغرب میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر درست نہیں کہ پاکستان میں انتہاپسندی بنیادی طور پردینی درس گاہوں سے فروغ پارہی ہے کیونکہ سکول جانے والی کل آبادی کا دس فیصد سے بھی کم مدرسوں میں پڑھتا ہے اور ادارے کا دعویٰ ہے کہ مسائل دراصل مجموعی تعلیمی نظام میں ہی موجود ہیں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام تاریخی طور پر اس اعتبار سے بدعنوانی کا شکار رہا کہ سیاسی مفادات کے تحت اساتذہ کی تقرریاں کر کے انھیں تنخواہیں دی جاتی رہیں”چاہے وہ سکول (پڑھانے ) آئیں یا نہ آئیں“۔

وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ امریکی تحقیقی ادارے نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ان کے حل کے لیے پاکستان کو امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری سے امداد کی بھی ضرورت ہے جسے ”ہم کسی کے تابع ہو کر نہیں بلکہ خود اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کر سکیں۔

امریکی تحقیقی ادارے نے اپنے جائزے میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں حصول تعلیم کی ضرورت حکومت کے پاس دستیاب استطاعت سے بہت زیادہ ہے اور تحقیق کے مطابق یہ فقدان نئی نسل کوعسکریت پسندی کی طرف جھونک رہا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے پاکستان میں تعلیم کی ترقی پر خاص توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔امریکہ کی طرف سے پاکستان کو آئندہ پانچ سالوں کے دوران سالانہ ملنے والی ڈیرھ ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد میں تعلیم کی بہتری کو مرکزیت حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG