رسائی کے لنکس

پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے عالمی بینک کی چالیس کروڑ ڈالر امداد

  • حسن سید

پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے عالمی بینک کی چالیس کروڑ ڈالر امداد

پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے عالمی بینک کی چالیس کروڑ ڈالر امداد

پاکستان کے ممتاز سائنس دانوں، اسکالروں اور پروفیسروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو اٹھارویں آئنی ترمیم کے تحت صوبوں تک منتقل کرنے کا ممکنہ اقدام کیا گیا تو اس شعبے کو شدید نقصان ہوگا جس سے ان کے مطابق ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

عالمی بینک نے پاکستان کے تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے چالیس کروڑ ڈالر امداد کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ہر سطح پر درس و تدریس اور تحقیق کا معیار بہتر بنانا ہے تاکہ خاص طور پر پرائمری کی سطح پر اسکولوں میں داخلے کا رجحان بڑھے۔

بین الاقوامی ادارے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کو اکیسویں صدی میں علم پر مبنی معیشت پر انحصار کرنا ہے تو اسے باصلاحیت اور علمی قابلیت رکھنے والی افرادی قوت کی ضرورت ہوگی ہے جو شعبہ تعلیم کی استعطاعت بڑھا کر ہی ممکن ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ منصوبے سے تقریباً بارہ لاکھ طالب علموں، بیس ہزار اساتذہ ، 73 سرکاری اور چوبیس نجی جامعات کے علاوہ ان سے وابسطہ آٹھ سو کالجوں کو فائدہ ہوگا۔

عالمی بینک نے یہ امداد ایک ایسے وقت پر دی ہے جب حال ہی میں سرکاری عہدیداروں اور نجی ماہرین پر مشتمل پاکستان ایجوکیشن ٹاسک فورس نے تعلیم کی حالت کو نہایت خراب قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں ’’ہنگامی حالت‘‘ کا اعلان کیا تھا ۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ غربت، اسکولوں اور اساتذہ کی کمی اور وسائل کے قفدان سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی آئینی حق سے محروم ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے ممتاز سائنس دانوں، اسکالروں اور پروفیسروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں تک منتقل کرنے کا ممکنہ اقدام کیا گیا تو اس شعبے کو شدید نقصان ہوگا جس سے ان کے مطابق ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سرکاری طور پر اگرچہ ابھی ایسے کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر اور کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر عطا الرحمان نے کہا کہ مقامی میڈیا کی اطلاعت اور خود ان کی معلومات کے مطابق تعلیمی کمیشن کو توڑ کر صوبوں کے حوالے کرنے کا امکان بحرحال موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کر کے انہیں اپنے خدشات سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنے کے منتظر ہیں۔

ڈاکڑ عطا نے وائس آف امریکہ سے انٹرو یو میں کہا ’’اگر اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو تقسیم کیا گیا تو گذشتہ سالوں کے دوران عالمی سطح پر اس کی حاصل کردہ کامیابیاں بھی متاثر ہوں گی‘‘۔

پروفیسر عطا کی رائے میں تعلیم کی ترقی صرف عمارتوں یا وسائل سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ درس گاہوں میں باصلاحیت اور قابل اساتذہ موجود ہوں اور اس عمل کی نگرانی کے لئے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیمی کمیشن جیسا خود مختار ادارہ موجود رہے۔

XS
SM
MD
LG