رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی نے ایک بل کی متفقہ منظوری دی ہے جس کے تحت والدین اور آجر اگر اپنے بچوں کو قریبی سکول نہیں بھیجیں گے تو ان کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور تین سال کی سزا دی جا سکے گی۔

قومی اسمبلی نےمتفقہ طور پر ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت پانچ سے سولہ سال کی عمر تک کے بچوں کو تعلیم لازمی اور مفت دی جائے گی۔

پارلیمان کے ایوان زیریں سے منگل کو منظور ہونے والے اس بل کے تحت جو والدین اور آجر اپنے بچوں کو قریبی سکول نہیں بھیجیں گے ان کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور تین سال کی سزا دی جا سکے گی جبکہ تمام نجی سکولوں میں مستحق طلبا کے لیے دس فیصد کوٹہ مختص ہو گا۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کا منظر (فائل فوٹو)

پارلیمنٹ کے اجلاس کا منظر (فائل فوٹو)



بل کی منظوری کے بعد اس کی محرک پیپلز پارٹی کی رکن یاسمین رحمٰن نے وائس آف امریکہ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ والدین اور آجر کو پابند کیا ہے کہ وہ بچوں کو قریبی سکول میں تعلیم کے حصول کے لیے ضرور بھیجیں۔

’’ہم چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں مگر اس کے باوجود حقائق یہ ہیں کہ چائلڈ لیبر موجود ہے جو والدین اور آجر اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے ان کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور تین سال کی سزا دی جا سکے گی، یہ سزا پہلی بار ہو گی اگر وہ دوبارہ ایسا کریں گے تو ہر بار سزا اور جرمانے میں اضافہ ہوتا جائے گا۔‘‘

یاسمین رحمٰن نے بتایا کہ آئین میں تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے مگر اس کے لیے ضروری یے کہ ہر علاقے میں سکول ہوں۔ اس بل کے تحت حکومت پابند ہو گی کہ ہر علاقے میں اسکول کھولے۔

ہر علاقے میں سکول مینجمینٹ کمیٹی ہو گی جو بچوں کو سکول بھیجنے کی نگرانی کرے گی اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے بھی معیار مقرر کیا جائے گا اور موجودہ اساتذہ کو بھی اس معیار پر پورا اترنے کے لیے دو سال کا وقت دیا جائے گا۔

’’مقررہ مدت میں معیار پر پورا نا اترنے والوں کو فارغ کر دیا جائے اب تمام سکولوں کی رجسٹریشن ضروری قرار دے دی گئی ہے مقررہ مدت کے دوران رجسٹریشن نہ کروانے والے سکولوں پر دو لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG