رسائی کے لنکس

’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘

  • یاسر منصوری

’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘

’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘

عالمی سطح پر تعلیم کے شعبے میں سرگرم تنظیم ’گلوبل کیمپین فار ایجوکیشن‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایشیائی ممالک کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم مکمل نہیں کر پاتی ہیں جب کہ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح 30 فیصد ہے۔

گلوبل کیمپین فار ایجوکیشن کی معاون برطانوی تنظیم ’اوکسفیم‘ کے پاکستان میں عہدے دارسعید الحسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں خصوصاً لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے حوالے سے حالات کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہے۔

’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘

’41 فیصد لڑکیاں بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکوں کی شرح خواندگی 69 فیصد اور لڑکیوں کی 45 فیصد ہے، جب کہ ملک میں قائم تقریباً ڈیڑھ لاکھ پرائمری اسکولوں میں سے 45 فیصد لڑکوں اور 31 فیصد لڑکیوں کے لیے ہیں۔

اوکسفیم کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی زیادہ توجہ اس صنفی فرق کو ختم کرنے اور تعلیم کے فروغ پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں لڑکیوں کے لیے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کا امکان ہی 50 فیصد ہے۔

سعید الحسن نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت شعبہِ تعلیم کی صوبوں کو منتقلی کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا لیکن اُنھوں نے پاکستان میں اکثر تجزیہ کاروں کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل صوبوں کی استعداد بڑھانا ناگزیر تھا۔

”یہ فوری فیصلہ تو لے لیا گیا ہے لیکن شاید باقاعدہ کوئی گراؤنڈ ورک اس حوالے سے نہیں ہوا یہ نہیں دیکھا گیا کہ صوبوں میں یہ ذمہ داری نبھانے کی استعداد ہے یا نہیں۔ وزارت تعلیم سے بات کریں تو وہ بھی ایک دباؤ کا شکار ہے کیوں کہ صوبوں کو اس نئی صورت حال سے واضح آگاہی نہیں ہے۔“

البتہ حکومت اور ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی کے علم میں ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا ہو گا لیکن مستبقل میں اس فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے کیوں کہ اختیارات اور وسائل کی منتقلی کے بعد صوبے اپنی کارکردگی کے خود ذمہ دار ہوں گے اور ناکامی کا الزام وفاق پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG