رسائی کے لنکس

ناروے: تعلیم سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف شرکت کریں گے

  • عشرت سلیم

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص کیے گئے وسائل کو 2.4 فیصد سے بڑھا کر اگلے تین سالوں میں چار فیصد تک کرے گی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف آئندہ ہفتے اوسلو میں تعلیم پر ایک سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ناروے جائیں گے۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وزیرِاعظم نواز شریف اس اجلاس سے خطاب کے علاوہ وہاں موجود دیگر رہنماؤں اور شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اس اجلاس کا مقصد عالمی سطح پر تعلیم کے لیے کوششوں کو فروغ دینا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی طرف سے متعین کیے گئے ترقیاتی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

حال ہی میں ایک غیر ملکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ تعلیم سماجی تبدیلی کا بنیادی محرک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور ملکی ترقی، غربت میں کمی اور بہتر آمدن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اسی لیے ان کی حکومت بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص کیے گئے وسائل کو 2.4 فیصد سے بڑھا کر اگلے تین سالوں میں چار فیصد تک کرے گی۔

تاہم ماہرین تعلیم کے مطابق ملک میں تعلیم کی صورتحال مایوس کن ہے اور اس کی بنیادی وجہ سیاسی عزم کی کمی ہے۔ معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج تعلیم کی کمی ہے اور اس کو ہر سطح پر بہت سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُن کے بقول طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

’’تعلیم بحیثیت دستوری ضرورت کے ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ریاست اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر پا رہی۔ ہم نے وقتی طور پر جان بوجھ کر تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ تعلیم ہے جو حاکموں کے لیے ہے اور ایک وہ ہے جو محکوموں کے لیے ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جاتا جو آگے بڑھنے اور پھلنے پھولنے والے معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ’’ہمارے معاشرتی مسائل تعلیم سے منسلک ہیں، مثلاً ہم میں رواداری نہیں ہے، برداشت نہیں ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘‘

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے مطابق پاکستان میں ہر سطح پر تعلیم کو توجہ کی ضرورت ہے مگر ابتدائی تعلیم ثانوی تعلیم کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے عرب نیوز میں اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان میں 60 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، اُن کا کہنا تھا کہ سماجی بہبود اور آزادی کے لیے بھی تعلیم کا کردار اہم ہے اور بطور قومی ایجنڈے کے اسے بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اور انتہا پسند اسکولوں کو نشانہ بنا رہے تاہم اُن کے بقول تعلیم اور بچےپاکستان کا سرمایہ ہیں جس کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG