رسائی کے لنکس

پاکستان میں ایک چوتھائی سرکاری سکولوں کی ناقص کارکردگی


پاکستان میں ایک چوتھائی سرکاری سکولوں کی ناقص کارکردگی

پاکستان میں ایک چوتھائی سرکاری سکولوں کی ناقص کارکردگی

1951ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں اپنا نام لکھ پڑھ سکنے والے افراد کی تعداد 16.4فیصد تھی جو1961ء کی مردم شماری کے مطابق گھٹ کر16.3فیصد ہو گئی ۔ 1972ءمیں شرح خواندگی21.7 فیصد ،1981ءمیں 26.2 فی صد اور 1998 ءمیں 43.9 فیصد تھی ۔ 2008ء کےمختلف اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں خواندہ آبادی کا تناسب 50 اور 56 فیصدکے درمیان ہے جن میں 69 فیصد مرد اور 43 فیصد خواتین ہیں ۔ شرح خواندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں 186ویں نمبر پر ہے اور دنیا کے ان آٹھ ملکوں میں شامل ہے جہاں تعلیم کے شعبے پر ملکی بجٹ کا دو سے تین فیصد خرچ کیا جاتا ہے ۔

واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر زبیر اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے سے سوتیلی ماں والا سلوک روا رکھا گیا ۔ان کا کہنا ہے کہ2007/2008ء ، میں پاکستان میں آر اینڈ ڈی سائنس دانوں اور ٹیکنیشینز کی تعداد فی ہزار آبادی میں ایک سے کم تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں ہر ایک ہزار آبادی میں دو سے زیادہ ٹیکنیشینز ہیں ۔جبکہ ملیشیا میں دس سے بارہ ، کوریا میں 27/28 ، یورپ میں 35 سے چ40 اور امریکہ میں 30 کےلگ بھگ ہیں ۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ63 برسوں میں پاکستان میں آنے والی ہر سیاسی اور سماجی تبدیلی کے پیچھے ملٹری اور سول بیوروکریسی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پالیسیاں کارفرما رہی ہیں جس کا ایک نشانہ پاکستان کا تعلیمی نظام بھی بنا۔

معروف پاکستانی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھانا طاقتورطبقے کے مفاد میں ہی نہیں ہے ۔زبان ایک قومی وسیلہ ہے لیکن جان بوجھ کر عوام کو انگریزی زبان سے دور رکھا جا تا ہے کیونکہ انگریزی زبان پاکستان میں طاقتور طبقے کی زبان ہے ۔

ماہر معاشیات زبیر اقبال کہتے ہیں کہ کسی ملک کی تعلیمی پالیسی کے اثرات دو دہائیوں کے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں اور یہ پاکستان کے تعلیمی شعبے میں کسی واضح سمت کی عدم موجودگی کوپاکستانی معاشرے کی اقتصادی ، سماجی اور سیاسی بلوغت مکمل نہ ہونے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں ۔

ماہرین معاشیات پاکستان کی تعلیم سے محروم تقریبا آٹھ کروڑ آبادی کو گمشدہ نسل قرار دیتے ہیں ۔اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی تصویر میں ترقی کے رنگ بھرنے کے لئے 2.5 فیصد کی رفتار سے بڑھتی آبادی میں کمی اورایسے سکولوں کی آبادی میں اضافہ کرنا ہوگا جہاں بچے صرف حافظے کا استعمال ہی نہیں ، سوچنے سمجھنے اور خود فیصلے کرنے والا ذہن اور آج کی دنیا میں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا ہنربھی سیکھتے ہوں ۔

زبیر اقبال کہتے ہیں کہ اگر آج بھی پالیسی تبدیل کی جائے تو جتنے بچے مدرسوں میں جا چکے ہیں کہ ان میں کمی آنے میں وقت لگے گا ۔ کم از کم پانچ سے دس سال لگیں گے کہ ہم ان مدرسوں کی گنجائش کو کم کر سکیں ۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ آیا ہم مدرسوں کو بند کر دیں یا ان کی اصلاح کریں ۔ لگتا یہ ہے کہ اگلے دس پندرہ سال کے لئے ہمیں ایک انقلابی پالیسی بنانی ہوگی ، جس میں مدرسوں میں اصلاحات کرنا ضروری ہوگا اور نئے سکول بنانے ہونگے ۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق مدارس میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی کے اندازے لگائے جا رہے تھے ۔اس تحقیق کے مطابق یہ ناقص کارکردگی کے حامل ایسے تعلیمی ادارے ہیں جومعاشرے کو کار آمد شہری مہیا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینٹر فار یونیورسل ایجو کیشن کی ربیکا ونتھروپ کہتی ہیں کہ ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں سرکاری سکولوں میں سے25 فیصد کا معیار بدترین ہے، جب کہ پرائیویٹ سکول نسبتاً بہتر ہیں۔

لیکن بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ربیکا ونتھروپ پاکستانی حکومت کے حالیہ کچھ اقدامات کو درست سمت میں قدم قرار دیتی ہیں ۔جو پاکستانی وزارت تعلیم برطانوی حکومت اور امریکی حکومت کے ساتھ مل کرکر رہی ہے جیسے کہ پاکستان ایجو کیشن ٹاسک فورس کا قیام ۔ جو کہ قومی تعلیمی پالیسی کو لے کر کوشش کر رہی ہے کہ کیسے صوبائی حکومتیں اسے عمل در آمد کروا سکتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ پالیسی کاغذوں میں تو بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ لیکن پاکستانی حکومت کو ان اصلاحات پر کیسے عمل کرانا ہے ، یہ ایک اہم سوال ہے ۔

XS
SM
MD
LG