رسائی کے لنکس

عید الفطر سے قبل بازاروں میں آنے والے مہنگائی سے پریشان


عید الفطر سے قبل بازاروں میں آنے والے مہنگائی سے پریشان

عید الفطر سے قبل بازاروں میں آنے والے مہنگائی سے پریشان

وفاقی دارالحکومت کی اس مارکیٹ میں خرید و فروخت میں مصروف لوگوں میں زیادہ پریشانی ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی کے حالات کے بارے میں دیکھنے میں آئی جہاں سیاسی و لسانی بنیادوں پرفسادات میں جولائی اس اب تک لگ بھگ چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی اسلام آباد میں عیدالفطر سے قبل بازاروں کو روایتی انداز میں چراغاں کر کے سجایا گیا ہے تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث لوگوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے باعث بازاروں میں حقیقی خرید اروں کی کمی ہے۔

اس سال بڑی دکانوں کے علاوہ عید پر چوڑیاں اور مہندی بیچنے والے بھی بازاروں میں اپنے چھوٹے سٹالوں کو سجائے خریداروں کے انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ احد منیراسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں چوڑیاں فروخت کرتے ہیں۔ ”خریدار بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی ہی مہنگائی ہے ، پچھلے سال کے مقابلے میں تو بالکل ماٹھا کام ہے۔ اب وہ بھی (خریدار) کہتے ہیں کہ مہنگائی ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے لیے بھی تو مہنگائی ہے ۔ لوگ بس بچوں ہی کی چیزیں خرید رہے ہیں۔“

عیدکی خریداری کے لیے آنے والے نور خان اور محمد شکور کا کہنا ہے کہ ”ہم ان چیزوں کو صرف دیکھ ہی سکتے ہیں ، ہماری جیب میں جتنے پیسے ہیں اس میں ہم پوچھ نہیں سکتے کہ یہ چیز کتنے کی ہے بس دیکھ سکتے ہیں۔ کپڑے اور جوتے لینے کے لیے آئے تھے لیکن اُن کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ ہم لوگ خرید نہیں سکتے اس لیے گھر کی طرف واپس جارہے ہیں بس۔“

نازیہ ایک نجی کمپنی میں کام کرتی ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ کم مالی وسائل کے باوجود بچوں کی خوشی کے لیے وہ بازار آئی ہیں ۔ ”پہلے جب مہنگائی کم ہوتی تھی تو لوگ آرام سے اپنے بچوں کی ضروریات کے مطابق خریداری کر لیتے تھے ۔ اب بچوں کی شاپنگ تو کرلیتے ہیں لیکن اپنی ضرورت کی چیزیں رہ جاتی ہیں۔“

غلام محمد بٹ گذشتہ 25 سال سے سلائی کا کام کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے اس سال مہنگائی کے باعث لوگوں کی خوشیاں دب کر رہ گئی ہیں اور ماضی میں وہ رمضان کے وسط کے بعد گاہگوں کے رش کے باعث سلائی کے لیے کپڑے نہیں لیتے تھے لیکن اس بار وہ اس انتظار میں ہیں لوگ اپنے کپڑے سلائی کے لیے ان کے پاس لے کر آئیں۔ ”جو لوگ دو، دو، تین،تین جورٹے بناتے تھے اُنھوں نے بڑی مشکل سے ایک ایک سوٹ بنایا ہے ۔ اس سال ابھی تک ہم نے یہ سوچا کہ عید کیسے منانی ہے کیوں کہ عید کی جو خوشی پہلے ہوتی تھی وہ اب نہیں ہے ۔ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بندہ خوشی سے کوئی چیز خرید نہیں سکتا ہے البتہ مجبوری کے باعث خرید سکتا ہے۔“

مہنگائی کے علاوہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی عید کے بازاروں میں خریداروں کا رش نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نو رخان اور نازیہ کا کہنا ہے کہ بازاروں میں خریداری کے لیے آتے وقت اُنھیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں کوئی دھماکا ہی نا ہو جائے ۔ ”حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں بندہ ہر جگہ نہیں جاسکتا کیوں کہ دل میں ڈر وخوف ہوتا ہے۔ “

لیکن وفاقی دارالحکومت کی اس مارکیٹ میں خرید و فروخت میں مصروف لوگوں میں زیادہ پریشانی ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی کے حالات کے بارے میں دیکھنے میں آئی جہاں سیاسی و لسانی بنیادوں پرفسادات میں جولائی اس اب تک لگ بھگ چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG