رسائی کے لنکس

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی


قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

جانوروں کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاز کے مطابق جولائی اور اگست میں پاکستان میں آنے والے سیلاب میں 12 لاکھ چھوٹے بڑے جانور سیلاب کی نظر ہوئے جس کی وجہ سے زراعت سے وابستہ لوگ جن کی خوراک تک رسائی پہلے ہی محدود تھی، خالی ہاتھ رہ گئے ۔ اس لیے اس سال عیدالاضحٰی میں قربانی کے لیے پاز کا ساتھ دے کر لوگ سیلاب سے متاثر لوگوں کی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کوبحال کرنے میں ان کی مدد کریں۔

پاکستان میں حال ہی میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے سینکڑوں لوگ ہلاک ، لاکھوں بے گھر اور اتنی ہی تعداد میں لوگ اپنے مال مویشیوں سے محروم ہوگئے ۔ زراعت اور مویشیوں پر اپنی زندگی کی گاڑی چلانے والے ان متاثرین میں بے شمار خاندان تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب بھی کیمپوں میں مکین ہیں یا پھر کسی عارضی ٹھکانے میں امداد کے منتظر ۔

جب کہ جو گھروں کو لوٹ چکے ہیں وہ یا تو اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کی از سرنو بحالی میں مصروف ہیں یا بے یارو مددگار فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ ان لوگوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے جانوروں کے لیے کام کرنے والی کراچی کی ایک رضاکار تنظیم ’پاز‘ نے عیدالاضحٰی کے موقع پر زندہ جانور عطیہ کرنے کی مہم چلا کر لوگوں کو ایک مختلف طرز پر سوچنے کا موقع دیا ہے۔

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحریری مہم میں تنظیم کا کہنا ہے کہ’ بکرا خریدئیے اور اس سال اسے قربان کرنے کے بجائے واپس اس گاؤں بھیج دیجئیے جہاں اس کی ضرورت ہے تاکہ وہ لوگ جو سیلاب میں اپنے ذریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں دوبارہ سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ بکریوں کے ذریعے دودھ گھی مکھن کی فروخت سے نہ صرف ان خاندانوں کومسلسل آمدنی فراہم ہوگی بلکہ متاثرہ خاندان کو اپنی خوراک اور زراعت میں بھی مدد ملے گی۔ ‘

جانوروں کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاز کے مطابق جولائی اور اگست میں پاکستان میں آنے والے سیلاب میں 12 لاکھ چھوٹے بڑے جانور سیلاب کی نظر ہوئے جس کی وجہ سے زراعت سے وابستہ لوگ جن کی خوراک تک رسائی پہلے ہی محدود تھی، خالی ہاتھ رہ گئے ۔ اس لیے اس سال عیدالاضحٰی میں قربانی کے لیے پاز کا ساتھ دے کر لوگ سیلاب سے متاثر لوگوں کی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کوبحال کرنے میں ان کی مدد کریں۔

تنظیم کے مطابق ایک بکری عطیہ کرنے کے لیے قیمت 12 ہزار روپے ہے جس سے وہ ایک صحت مند بکری خرید کر اسے سندھ میں متاثرہ خاندانوں تک پہنچائیں گے۔ یہ بکری مقامی لوگوں سے ہی خریدی جائے گی جو ہر سال اپنے جانور قربانی کے لیے فروخت کرتے ہیں تاکہ انھیں بھی اس کا فائدہ ہو۔ اس رقم میں بکری کو ضرورت مند ہاتھوں تک پہنچانا، اس کا ابتدائی طبی معائنہ بشمول ویکسی نیشن اور دو مہینے کا اعلیٰ معیار کا چارہ شامل ہے کیوں کہ چارہ سیلاب زدہ علاقوں میں باآسانی دستیاب نہیں ۔

اس تحریری مہم میں لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے کچھ سوالات کے جوابات بھی دیے گئے ہیں ۔ جیسے کہ ” کیا قرآن پاک میں نہیں کہ جانور کی قربانی ضروری ہے ؟ “ تحریری مہم کی ابتدا ہی قرآن پاک کی ایک آیت کے ذریعے اس سوال کے جواب سے کی گئی ہے کہ ” اللہ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت او ر نہ ان کا خون، بلکہ اس کو پہنچتا ہے تقویٰ ( تمھارے دلوں کی پرہیزگاری) “ ۔ تنظیم کے مطابق اگر آپ ایک جانور بھی عطیہ کردیں تو آپ کسی خاندان کی زندگی بدل دیں گے۔

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

قربانی کے جانور اورسیلاب زدگان کی بحالی

مدد کرنے کیے زندہ جانور کے بجائے قربانی کے گوشت کی تقسیم کے سوال پر تنظیم کا کہنا ہے کہ ان حالات میں لوگوں کو اپنی بقا کے لیے گوشت نہیں بلکہ زندہ جانوروں کی ضرورت ہے تاکہ ان کے لیے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ بن سکے اور ان کی معاشی زندگی بحال ہو۔ اسی طرح رقم کے بجائے بکری عطیہ کرنے پر اس تنظیم کا کہنا ہے کہ بکری مقامی غریب افراد سے خریدنے کا مقصد ان غریبوں کا بھی فائدہ ہے جبکہ ضرورت مند خاندان کے لیے یہ طویل المدتی تحفہ ہوگا اور یہ ان تک ضرور پہنچے گا۔جو لوگ عطیہ کریں گے وہ ہم سے رابطہ میں رہ کر اسکی تصدیق کرسکیں گے۔

پاکستان انیمل ویلفےئر سوسائٹی یعنی پاز ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جسے مکمل طور پر رضاکار چلاتے ہیں۔ اس ادارے کا مقصد پاکستان میں جانوروں اور انسانوں کے درمیان ایک تعلق قائم کرنا ہے کیوں کہ انسانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماحول اور اپنے اردگرد رہنے والی دوسری جاندار چیزوں کی فلاح کے لیے کام کریں اور انھیں محفوظ بنائیں۔

XS
SM
MD
LG