رسائی کے لنکس

عید قرباں کے موقع پر اکثر جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے معاملے پر ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور اسی تناظر میں حکومت نے اس بار ایک ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا۔

پاکستان میں بدھ کو عید الاضحیٰ مذہبی عقیدت و جذبے کے ساتھ منائی گئی جس میں مسلمانوں نے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور ذبح کیے۔

ملک بھر میں نماز عید کے چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے جہاں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اضافی نفری حساس مقامات کے علاوہ مساجد اور عیدگاہوں کے باہر تعنیات رہی۔

نماز عید کے بعد قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور گھروں کے علاوہ کھلے میدانوں میں چھوٹے بڑے جانوروں کی قربانی کی گئی۔

عید قرباں کے موقع پر اکثر جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے معاملے پر ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور اسی تناظر میں حکومت نے اس بار ایک ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا۔

وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں جن کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں گشت کر رہی ہیں۔ ’’بازاروں میں اور دیگر جگہوں پر کیمپ لگانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور ہم اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے حالیہ برسوں میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر خونریز واقعات بھی دیکھنے میں آتے رہے ہیں لیکن رواں برس صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردی ہدایت کے مطابق کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ لگانے یا لاؤڈ اسپیکر یر اس کے اعلان کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

کراچی میں رینجرز کے عہدیداروں کے مطابق شہر میں سکیورٹی کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اہلکار گشت پر معمور رہے اور اس دوران 15 مشتبہ افراد کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر گرفتار بھی کیا گیا۔

گزشتہ عیدین کی نسبت یہ عید عوام کے لیے اس اعتبار سے بھی منفرد تھی کہ حالیہ برسوں میں حکومت دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر عیدین اور دیگر مذہبی ایام میں موبائیل فون سروس عارضی طور پر معطل کردیا کرتی تھی۔ لیکن بدھ کو یہ مشق نہیں دہرائی گئی جس پر شہری خاصے خوش دکھائی دیے۔
XS
SM
MD
LG