رسائی کے لنکس

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے سے پہلے فوجی کارروائیوں کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا۔

عیدالفطر کے موقع پر اسلام آباد سمیت ملک بھر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ مساجد و عید گاہوں پر پولیس کے علاوہ نیم فوجی اہلکار تعینات تھے جبکہ دارالحکومت میں مختلف چوراہوں اور مارکیٹس میں سیکورٹی فورسز گشت پر مامور تھیں۔

عیدالفطر ایک ایسے وقت منائی جارہی ہے جب پاکستان میں فوج نے القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کر رکھا ہے جس سے افغانستان سے متصل قبائلی علاقے سے لاکھوں افراد نے گھر بار چھوڑ کر محفوط اضلاع میں پناہ لے رکھی ہے۔

صدر مملکت اور وزیراعظم نے عید کا دن فوجیوں اور نقل مکانی کرنے والوں خاندانوں کے نام منسوب کرتے ہوئے اپنے پیغامات میں عوام سے ان سے یکجہتی کا اظہار کرنے پر زور دیا۔

صدر ممنون حسین کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ قوم کو وزیرستان کے ان بہن بھائیوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیئے جنہوں نے ملک کے روشن مستقبل کے لیے قربانیاں دیتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑے۔

وزیراعظم نواز شریف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ وزیرستان کی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی اور ان کی بحالی کا کام مکمل کرنے تک عید کی خوشیاں نامکمل رہیں گی۔

ادھر فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے برسر پیکار فوجیوں اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے ساتھ ملاقات کے لیے شمالی وزیرستان اور بنوں ضلع کا دورہ کیا۔

فوجی آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی کمانڈ اور رابطے کا نظام ناکارہ کر دیا گیا ہے اور انہیں کبھی دوبارہ شمالی وزیرستان نہیں آنے دیا جائے گا۔

فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے بیان کے مطابق انہوں نے فوجی جوانوں کو آپریشن تیزی و مہارت کے ساتھ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

بنوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد سے خطاب میں آرمی چیف نے انہیں یقین دلایا کہ فوج نا صرف امداد مہیا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ان کی بحالی کے لیے جامع منصوبے کی بھی بھرپور حمایت کرے گی۔

وہاں موجود میجر جنرل اختر راؤ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔

’’آج کے دن تمام ملک کی سول اور ملٹری قیادت اپنے بہن و بھائیوں کے ساتھ جو شمالی وزیرستان سے عارضی طور پر یہاں آئے ہیں، ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم عید کی خوشیوں میں ان کے ساتھ ہیں۔ یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ ان کے حوصلے بہت بلند ہیں۔‘‘

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے سے پہلے کارروائیوں کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا تاہم ان کے مطابق پاک افغان سرحد پر ہونے والی دراندازی سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن متاثر ہو رہا ہے اس لیے اسے روکنے کے لیے موجودہ نظام کو مضبوط بنانا ہو گا۔

XS
SM
MD
LG