رسائی کے لنکس

پاکستان میں عید الاضحیٰ، سکیورٹی انتہائی سخت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’اس موقع پر ہمیں اپنے ذاتی، مسلکی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر وطن کی ترقی اور یکجہتی کے بارے میں سوچنا ہو گا۔‘‘

پاکستان میں جمعہ کو عید الاضحیٰ مذہبی منائی گئی اور اس موقع پر تہوار کی مناسبت سے مسلمانوں نے قربانی کے جانور بھی ذبح کیے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نمازِ عید کا سب سے بڑا اجتماع فیصل مسجد میں ہوا، جب کہ ملک بھر میں نماز عید کی ادائیگی کے لیے چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے اور اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مساجد اور عیدگاہوں کے باہر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات رہی۔

وزیراعظم نواز شریف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’اس موقع پر ہمیں اپنے ذاتی، مسلکی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر وطن عزیز کی ترقی اور یکجہتی کے بارے میں سوچنا ہو گا۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عیدالاضحٰی کی اصل روح ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے ’’قربانی اپنے آپ کو اعلیٰ انسانی مقاصد کے لیے وقف کر دینے کا نام ہے اور یہ ہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو آگے لے کر جاتا ہے‘‘۔

نماز عید کے بعد قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور گھروں کے علاوہ کھلے میدانوں میں چھوٹے بڑے جانوروں کی قربانی کی گئی۔

قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے لیے مختلف فلاحی اور خیراتی اداروں کے علاوہ دینی مدارس نے بھی اپنی اپنی مہم شروع کر رکھی تھی لیکن اس بار حکومت نے متنبہ کیا تھا کہ جگہ جگہ خیمے لگا کر نہ تو کھالیں جمع کی جائیں گی اور نہ ہی اس ضمن میں کسی طرح کی دھونس قابل قبول ہو گی۔

قربانی کے جانوروں کی لگائی گئی منڈیوں میں عید کے روز گہما گہمی تو پہلے جیسے نہیں تھی لیکن خرید و فروخت کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا۔

عید الاضحیٰ کا تہوار تین روز تک جاری رہتا ہے اور ان تین دنوں کے دوران جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG