رسائی کے لنکس

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی کی وبا سیاسی بحث کا موضوع بن گئی


پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی کی وبا سیاسی بحث کا موضوع بن گئی

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی کی وبا سیاسی بحث کا موضوع بن گئی

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی کی وباسیاسی بحث مباحثے کا موضوع بن گئی ہے۔ملکی میڈیا پر حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آمنے سامنے کھڑے ہوکر لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی کے لئے ایک دوسرے کو ذمے دار ٹھہراتی نظر آتی ہیں۔اس صورتحال پر مبصرین کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی نے اے پی سی کا تاثر زائل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو طرفہ الفاظ کی جنگ میں اے پی سی سے ابھرنے والا یکجہتی کا تاثر چند گھنٹوں کا مہمان ثابت ہوا ۔

تین روز قبل اے پی سی میں ملک کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے عسکری قیادت کے ساتھ شرکت کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ملکی قیادت مسائل کے حل کیلئے سر جوڑ چکی ہے ، اس اقدام سے عوام میں پائی جانے والی غیر یقینی کیفیت میں بھی کمی آئی لیکن ملک میں جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ڈینگی مچھر نے یکجہتی کی فضا کو زیادہ دیر تک ٹھہرنے نہیں دیا ۔

پنجاب میں طویل دورانیہ کی لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار مسلم لیگ ن نے حکومت کو ٹھہرا دیا اور پنجاب میں تین روز سے ایسا احتجاج ہو رہا ہے کہ جورکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ پنجاب کے دارلحکومت لاہور سمیت فیصل آباد ، گجرانوالہ ، ملتان اور دیگر شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام کی آنکھوں پر اب دن کو بھی اندھیرا چھایا ہوا ہے ، نہ تو کوئی سرکاری املاک ان سے محفوظ ہیں اور نہ سرکاری اہلکار ۔ اس تمام تر صورتحال میں اگر چہ پیر کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے بین الوزارتی اجلاس طلب کیا اور فوری طور پر لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے ہدایات جاری کیں اور کمیٹی بھی تشکیل دی گئی لیکن بظاہر نہ تو لوڈ شیڈنگ میں کمی نظر آ رہی ہے اور نہ ہی احتجاج پر۔

دوسری جانب اس تمام تر صورتحال میں پنجاب میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف مرکزی حکومت اور پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی حکومت مخالف نعرے لگائے گئے ۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف حکومت مخالف روزانہ کی بنیادوں پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا اور منگل کو صدر اور بدھ کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا ۔

ادھر شہباز شریف کے صاجزادے اور ممبرقومی اسمبلی حمزہ شریف کی قیادت میں پیر کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف ریلی نکالی گئی جس کی نواز شریف نے بھی بھر پور حمایت کی ۔

دوسری جانب لوڈ شیڈنگ سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے الزامات کا بھی بھر پور جواب دیا جا رہا ہے اور اس کے لئے پیپلزپارٹی کی قیادت پنجاب میں ڈینگی وائر س کو جواز بنا کر پیش کر رہی ہے ۔ وفاقی وزیرطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ، سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن ، سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان اس میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اے پی سی کے کچھ گھنٹوں بعد قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا ہے ۔شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ حالیہ لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار شریف برادران ہیں جبکہ بابر اعوان کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں ڈینگی کے خلاف ناقص منصوبہ بندی سے توجہ ہٹانے کیلئے احتجاج کروا رہی ہے، شہباز شریف حکومت کو صوبے میں مچھر مارنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔

XS
SM
MD
LG