رسائی کے لنکس

ضمنی انتخابات میں زیادہ تر پرانے امیدواروں کی جیت

  • افضل رحمن

ضمنی انتخابات میں زیادہ تر پرانے امیدواروں کی جیت

ضمنی انتخابات میں زیادہ تر پرانے امیدواروں کی جیت

پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو دونشستوں پر ضمنی انتخابات ہفتے کے روز مظفر گڑھ ، فیصل آباد اور وہاڑی کے علاقوں میں ہوئے اور اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 178مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے جمشیددستی این اے 166وہاڑی سے پیپلز پارٹی کے اصغر جٹ پی پی 63فیصل آباد سے مسلم لیگ (ن) کے اجمل آصف اور پی پی 259مظفر گڑھ سے آزاد امید وار باسط سلطان کامیاب قرار پائے ہیں۔

یہ چاروں نشستیں ارکان کے جعلی ڈگریوں کے حامل ہونے کے سبب مستعفی ہونے سے خالی ہوئیں تھیں۔

دلچسپ امر یہ کہ ان میں سے دونشستوں پر وہی امید وار کامیاب ہوئے ہیں جنھیں ڈگری جعلی ثابت ہونے کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا ۔ ان میں قابل ذکر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہیں جو استعفیٰ دینے سے پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئر مین بھی تھے ۔

سیاسی مبصرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے جعلی ڈگری والے امیدواروں کی کامیابی کوافسوسناک اور مایوس کن قرار دیا ہے۔ لیکن غیر سرکاری تنظیم پِل ڈاٹ (PILDAT) کے چیئر مین احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ضمنی انتخابات کے نتائج ایک بار پھر اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام کو زیادہ پرواہ اس بات کی ہے کہ کون اُن کے مسائل حل کرے گا ۔ ’

”عام آدمی کو یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ پولیس ، تھانے، کچہری، پروموشن،پوسٹنگ اورنوکری کے حصول میں جو امید وار اس کی مدد کر سکے وہ اسی کو ووٹ دے گا ۔ووٹر کے لیے اس بات کی اہمیت کم ہوتی ہے کہ امیدوار کتنا دیانت داراور امین ہے، وہ کتنا دور اندیش یا پڑھا لکھا ہے ۔“

واضح رہے کہ فروری 2008ء کے انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے بی اے کی شرط لازمی تھی جو انتخابات کے بعد عدالت عظمیٰ نے ختم کر دی تھی۔


XS
SM
MD
LG