رسائی کے لنکس

اجلاس کے پہلے دور کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور آئین کے وضع کردہ طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن کا اجلاس ہفتہ کو اسلام آباد میں شروع ہوا لیکن پہلے روز اس میں کوئی فیصلہ نہ ہونے کے باعث اجلاس اتوار تک ملتوی کردیا گیا۔

16 مارچ کو آئینی مدت کے خاتمے پر قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد سے نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مجوزہ ناموں پر پہلے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق نہ ہوسکنے کے بعد تین دن تک آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی اس پر مشاورت کرتی رہی لیکن جمعہ کو یہ کمیٹی بھی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔

اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں ہے جس کے پاس دو دن وقت ہے کہ اُسے حکومت اور اپوزیشن کے دو دو ناموں میں سے کسی ایک بطور عبوری وزیراعظم نامزد کرنا ہے۔

ہفتہ کو چیف الیکشن کمشنر فخر الدین ابراہیم کے سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں تینوں صوبوں کے ممبران شریک ہوئے جب کہ سندھ کے الیکشن کمشن کے رکن کراچی میں ہونے کے باعث اس میں شرکت نہ کرسکے۔

اجلاس کے پہلے دور کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’یہ اتنا اہم فیصلہ ہے اس پر تین دن کمیٹی بھی بیٹھی رہی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہے یہ صرف آئین کے پروسیجر کو فالو کیا جارہا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں کی کارروائی پر کمیشن کے اجلاس میں بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نگراں وزیراعظم کے لیے جن شخصیات کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اس میں حکومت کی طرف سے اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر عشرت حسین اور سابق جج میر ہزار کھوسو شامل ہیں جب کہ حزب مخالف کی طرف سے سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاہد اور رسول بخش پلیجو کے نام شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG