رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کے ارکان 27 جولائی تک تعینات کیے جائیں: چیف جسٹس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ باقی تمام عہدے خالی ہیں اور جب تک صوبائی الیکشن کمشنر تعینات نہیں کر دیے جاتے اُس وقت تک الیکشن کمیشن اہم معاملات اور درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس نے حکومت سے کہا ہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو 27 جولائی تک تعینات کیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک میں انتخابات کرانے کے مجاز ادارے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی الیکشن کمشنر کے عہدوں کی مدت گزشتہ ماہ مکمل ہو گئی تھی، جس کے بعد وہ اپنے عہدوں سے ریٹائر ہو گئے۔

لیکن یہ عہدے بدستور خالی ہیں اور چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بدھ کو اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جمعرات کو وفاق سے جواب طلب کیا تھا۔

اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے خالی ہونے والے عہدوں پر تعیناتی کے لیے پہلے سے اقدامات کرنے چاہیئے تھے۔

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ باقی تمام عہدے خالی ہیں اور جب تک صوبائی الیکشن کمشنر تعینات نہیں کر دیے جاتے اُس وقت تک الیکشن کمیشن اہم معاملات اور درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔

اس وقت حزب مخالف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر درخواستیں زیر التوا ہیں جب کہ نا مکمل الیکشن کمیشن کی وجہ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی نہیں ہو سکے ہیں۔

ملک کے آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت ضروری ہے۔

اگرچہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ سے رابطے تو کیے گئے ہیں لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ کن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن میں اصلاحات سے متعلق رواں سال مئی ہی میں قومی اسمبلی نے ’’بائیسیویں آئینی ترمیم‘‘ منظور کی تھی جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان کے لیے عدلیہ کے سابق جج ہونے کی شرط کو ختم کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل آئین کے تحت یہ ضروری تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنر اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ جج ہوں، لیکن نئی آئینی ترمیم کے بعد اب کم سے کم 20 سال کا تجربہ رکھنے والے سرکاری افسر یا ٹیکنو کریٹ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جا سکے گا جب کہ اس عہدے کے لیے عمر کی حد 68 برس مقرر کی گئی ہے جب کہ کمیشن کے دیگر ارکان کی عمر کی حد 65 سال مقرر کی گئی ہے۔

ماضی میں زیادہ عمر رکھنے والی شخصیات بھی ان عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG