رسائی کے لنکس

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور بعض مبصرین اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ کمیشن کے کام اور طریقہ کار سے خوش نا تھے۔

صدارتی انتخابات کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے الیکشن کمیشن پر تنقید میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اب پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے کمیشن کے چاروں ممبران سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پارلیمان میں اپوزیشن کے سب سے بڑے اتحاد کی رکن جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ترجمان سنیٹر زاہد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے موجودہ ممبران کی موجودگی میں آئندہ انتخابات کا انعقاد شفاف انداز میں ممکن نہیں اس لیے پارلیمان میں بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ممبران کی انتخابات میں ’’غیر فعال اور ناقص کارکردگی‘‘ کی تحقیقات ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کروائی جائیں۔

’’ہمارے لوگ مر رہے تھے۔ ہمارے سے سیکورٹی لی گئی اور جب خط لکھا تو دس روز کے بعد فخرالدین جی ابراہیم (چیف الیکشن کمشنر) کہتے ہیں کہ مجھے ملا ہی نہیں۔ آپ اسے الیکشن سمجھتے ہیں.... کمیشن کہتا ہے کہ (انتخابات کی تاریخ کا) سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گا وہ قبول ہو گا۔‘‘

رواں ماہ پاکستان بھر میں 42 حلقوں میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو رواں سال ہی بلدیاتی انتخابات کروانے کی ہدایت کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے گزشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، اور بعض مبصرین اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ کمیشن کے کام اور طریقہ کار سے خوش نا تھے۔

11 مئی کے عام انتخابات کے انعقاد کے طریقہ کار اور نتائج کو بیشتر سیاسی جماعتوں نے شدید تحفظات کے ساتھ تسلیم کیا مگر سابقہ حکمران پی پی پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے احتجاجاً اس میں شرکت کی۔

بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یک طرفہ طور پر حکمران مسلم لیگ نواز کی درخواست پر انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کی۔

حزب اختلاف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات آئین کے تحت شفاف اور آزادانہ انداز میں ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان اور ممبر شہزاد اکبر خان نے اس پر تبصرہ کرنے سے معذرت کر دی۔ تاہم ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ ’’یہ ذاتی معاملہ ہے۔ اس میں کمیشن کا کچھ نہیں۔ فیصلہ ممبران نے کرنا ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کہتے ہیں کہ کمیشن کے ممبران کے عہدے کو وہی تحفظ حاصل ہے جو ایک ہائی کورٹ کے جج حاصل ہوتا ہے اور انہیں ایک عام طریقہ کار کے تحت اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔

’’سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے انہیں ہٹایا جا سکتا ہے۔ صدر کو اس سلسلے میں ریفرنس بھیجا جائے تو یہ عمل شروع ہو جائے گا۔ سیاسی جماعتوں کے مطالبات سے انہیں نہیں ہٹایا جا سکتا۔‘‘

عام انتخابات سے پہلے منہاج القران اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے چاروں اراکین کی تقرری کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تقرریوں میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے طاہرالقادری کی دوہری شہریت پر اعترض کرتے ہوئے انہیں اس معاملے میں فریق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG