رسائی کے لنکس

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کا الزام ہے کہ الیکشن کیمشن اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ ساری چیزیں سوچتا اور کرتا ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان تو ابھی تک نہیں ہوا لیکن الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند اُمیدواروں نے محدود پیمانے پر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

آئندہ انتخابات کے دوران اُمیدواروں کے لیے نیا ضابطہ اخلاق بنایا گیا ہے جس کے تحت انتخابی مہم کے دوران مقررہ سائز سے بڑے ینرز لگانے پر پابندی ہو گئی۔

اور انتخابی اخراجات کی حد وہی برقرار رکھی گئی ہے جو 2002ء کے عام انتخابات میں مقرر کی گئی تھی۔ جس کے تحت قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے والا اُمیدوار 15 لاکھ روپے جب کہ صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے والا اُمیدوار 10 لاکھ روپے تک خرچ کر سکے گا اور انتخابی اخراجات کے لیے اُمیدوار کو اپنا ایک خصوصی بینک اکاؤنٹ بھی کھولنا ہو گا۔

عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ایک حلقے میں اُمیدوار کو اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اس بارے میں جب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اُن کی آراء معلوم کی گئی تو پتا چلا کہ وہ بھی یہ ہی سمجھتے ہیں کہ اتنی رقم میں بظاہر الیکشن لڑنا ممکن نظر نہیں آتا۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت کے منافی قوانین اگر بنائے جائیں تو اُن پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔
’’ساری سیاسی قوتیں مل کر طے کریں کہ کتنے اخراجات مناسب ہیں اور کتنے نہیں ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہر علاقے کی مختلف صورت حال ہوتی ہے لیکن اُمیدوار معروضی حالات کے مطابق ہی انتخابی اخراجات کرتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حالات کے مطابق انتخابی اخراجات کا تعین ہونا چاہیئے تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انتخابی حلقے اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ وہاں تک رسائی کے لیے اُمیدوار کو ٹرانسپورٹ پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔
’’الیکشن کیمشن نے انتخابی اخراجات کی جو حد مقرر کی ہے، یقیناً اس پر ہوم ورک کیا ہو گا ہم کوشش کریں گے کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے۔‘‘

لیکن اُن کا بھی ماننا ہے کہ قوانین بناتے وقت معروضی حالات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
’’میں سمجھتا ہوں کہ قوانین جتنے حقیقت پسندانہ ہوں گے ان پر عمل درآمد آسان ہو تا ہے اگر وہ حقیقت سے جدا ہوں گے یا دور ہوں گے تو پھر لوگ ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کہتے ہیں کہ ایک روایت ڈالی جا رہی ہے اور اُن کے بقول متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو بھی موقع ملنا چاہیئے کہ وہ بھی پارلیمان کا حصہ بن سکیں۔

’’عوام ویسے ہی ان بینروں ،جھنڈوں اور تصویروں سے تنگ آئے ہوئے ہیں تو اب ایسے لوگ آئیں جن کی تصویریں نظر نہیں آتیں مگر وہ آدمی نظر آتا ہے جس نے کام کیا ہوا ہو یا کام کرنا چاہتا ہو ایماندار ہو اس قسم کے لوگ آنے چاہیں۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کا الزام ہے کہ الیکشن کیمشن اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ ساری چیزیں سوچتا اور کرتا ہے۔

’’بد قسمتی سے (الیکشن کمیشن) کو اپنے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں میں فرق کے بارے میں پتہ نہیں، دیہی علاقوں میں 15 لاکھ تو دور کی بات ہے 30 لاکھ میں بھی انتخابی اخراجات پورے نہیں کئے جا سکتے۔‘‘

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان نے انتخابی اخراجات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے بارے میں کہا کہ یہ’’یقیناً ناکافی‘‘ ہیں لیکن اُن کے بقول اس کی وجہ الیکشن کمیشن نہیں۔

’’الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام جو ہماری سیاسی جماعتیں ہیں اُن سے باہمی مشورے کے بعد قومی اسمبلی کے لیے 50 لاکھ اور صوبائی اسمبلی 30 لاکھ روپے کی تجویز اسمبلی کو بھیجی تھی اور اس کو حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ٹیک اپ نہیں کیا، اس لیے پہلے سے موجود قانون پر ہی عمل کیا جانا ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG