رسائی کے لنکس

انتخابات کا ایک سال مکمل، انتخابی دھاندلی پر احتجاج


(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

عمران خان یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ احتجاج کا مقصد جمہوری نظام کی بساط سمیٹنا یا درمیانی مدت کے انتخابات نہیں۔

پاکستان میں فوجی سربراہ کے آٹھ سالہ دور کے بعد دوسرے عام انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر ملک کے مختلف شہروں میں حزب اختلاف کی متعدد جماعتیں سڑکوں پر ہیں۔

وفاقی پارلیمان میں تیسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ان مظاہروں میں سب سے آگے ہے۔ ان مظاہروں کا مقصد 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں پر متعلقہ اداروں کی ’’سرد مہری‘‘ کے خلاف احتجاج ہے۔

پارٹی پرچم لہراتے ہوئے ہزاروں کارکن ٹولیوں کی شکل میں اتوار دوپہر سے اسلام آباد میں داخل ہونا شروع ہوئے اور پارلیمنٹ کی عمارت اور ایوان صدر کے سامنے مرکزی شاہراہ پر جلسے کے لئے جمع ہوئے۔

جلسہ گاہ کے اردگرد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی غیر معمولی تعداد میں تعیناتی کے علاوہ سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف کارروائی نا کی گئی تو یہ نا صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی بلکہ جمہوری عمل میں حصہ لینے والے بالخصوص نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین اور ملک میں پارلیمانی اور جمہوری اقدار سے متعلق تحقیق کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا۔

’’الیکشن ٹربیونلز کو چار ماہ میں فیصلے کرنے تھے مگر الیکشن کمیشن نے چار ماہ انہیں شکایات بھیجنے میں لگا دیا۔ پھر ووٹ ڈالنے والوں کے لیے سیاہی پتا چلی کہ صحیح نا تھی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تو اس وجہ سے اضطراب میں مزید اضافہ ہوا۔‘‘

تحریک انصاف انتخابی دھاندلیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر چکی ہے اور کئی انتخابی ٹربیونلز میں اب بھی اس کی شکایات زیر التوا ہیں۔


احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کی حکمت عملی تیار کرنے والوں کے ذہن میں نواز شریف انتظامیہ اور فوج کے تعلقات میں ان کے بقول پائے جانے والا تناؤ بھی ہوگا۔

’’فوج اور آئی ایس آئی کے لیے پی ایم ایل (ن) کے رہنماؤں کی طرف سے مسلسل بہت غیر محتاط بیان آئے اور پھر پانچ ماہ کے اندر آرمی چیف کی طرف سے عوامی سطح پر اظہار کرنے کی نوبت آجانا اس بات کی غمازی ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان کچھ معاملات صحیح نہیں چل رہے۔ نقصان بہت زیادہ ہوگا مگر غیر ذمہ داری کا عنصر حزب اقتدار میں بھی ہے اور حزب اختلاف بھی بے صبری کا اظہار کررہی ہے۔‘‘

عمران خان یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ احتجاج کا مقصد جمہوری نظام کی بساط سمیٹنا یا درمیانی مدت کے انتخابات نہیں۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزرا اس احتجاج کو پی ٹی آئی کا جمہوری حق قرار دینے کے ساتھ ساتھ عمران خان اور ان کے حامی سیاستدانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

وفاق وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’’ہم قومی ترقی میں اتنے کَھپ گئے تھے کہ ہمیں سیاست یاد نہیں رہی تھی مگر یہ آپ (عمران خان) کے رویے اور یہ دفن شدہ ممیاں کفن پھاڑ کر پھر نکل رہی ہیں۔ انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔‘‘

انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کے احتجاج میں علامہ طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی شامل ہے جو کہ لاہور میں ریلی کر رہی ہے جبکہ کراچی میں بھی پی ٹی آئی کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا۔

بین الاقوامی مبصرین نےگزشتہ سال کے انتخابات کو مجموعی طور پر قدرے شفاف قرار دیا تھا تاہم انہوں نے اس عمل میں مقامی ذرائع ابلاغ کے جانب سے ’’غیر منصفانہ کوریج‘‘ کی بھی نشاندہی کی تھی۔
XS
SM
MD
LG