رسائی کے لنکس

انتخابی دھاندلی کے الزامات پر عدالت عظمٰی میں سماعت


عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی دھاندلیوں کی درخواستوں کا جلد فیصلہ نا ہوا تو ان کے کارکن احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مئی کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت شروع کی۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب کے کم از کم چار حلقوں میں انتخابی عملے اور مقامی انتظامیہ نے ’’سنگین دھاندلی‘‘ کے ذریعے نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے امیدواروں کو کامیاب کروایا۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے باوجود پنجاب میں وفاقی اداروں کے ملازمین کو پولنگ اسٹیشنز پر تعینات نہیں کیا گیا۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل کو اگلی سماعت پر جواب دینے کے لیے طلب کرلیا گیا۔

سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’’انتخابات سے دو ماہ پہلے ایک لاکھ اساتذہ بھرتی کیے گئے۔ وہ کس لیے تھے؟ انہیں پھر الیکشن کی نگرانی کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ میں تو کہتا ہوں آپ ان چار حلقوں کی تحقیقات کریں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کس پلاننگ سے یہ دھاندلی کی گئی۔‘‘

انتخابی ٹربیونلز نے الیکشن سے متعلق شکایات کا فیصلہ انتخابات کے بعد چار ماہ میں کرنا تھا مگر الیکشن کمیشن کے عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں کے مطابق سینکڑوں درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی دھاندلیوں کی درخواستوں کا جلد فیصلہ نا ہوا تو ان کے کارکن احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

’’اگر ان (دھاندلیوں) کو نہیں پکڑیں گے تو اگلے الیکشن کا فائدہ ہے کیا؟ کیوں نکلیں گے لوگ ووٹ کے لیے؟ اگر قانونی دروازے ہم پر بند ہوگئے تو ہم پاکستان کی سڑکوں پر نکلیں گے۔‘‘


گزشتہ سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو کم و بیش تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے تسلیم تو کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات کسی بھی لحاظ سے شفاف اور دھاندلی سے پاک نا تھے۔

بین الاقوامی مبصرین نے بھی اپنی رپورٹس میں انتخابی بے ضابطگیوں کی واضح نشاندہی کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مقابلے میں مئی کے انتخابات بہتر تھے۔

ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں وہ نیشنل پارٹی کی حکومت کا حصہ ہے۔
XS
SM
MD
LG