رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن نے تضحیک آمیز اشتہارات کے لیے فنڈز فراہم کرنے والوں کی تفصیلات بھی پیمرا سے طلب کی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے (پمرا) کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ان تمام اشتہارات کو بند کروائے جن میں کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کمیشن نے ادارے سے اس بارے میں ٹی وی چینلز کو فوری ہدایت جاری کرنے اور ایسے تضحیک آمیز اشتہارات کے لیے فنڈز فراہم کرنے والوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’تمام جماعتوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ کوئی امیدوار یا جماعت کسی سیاسی مخالف پر ذاتی حملہ نہیں کریں گی۔ کسی کی ذات کے بارے میں بات نہیں ہوگی۔ اگر شکایت ملتی ہے تو ایکشن لیا جائے گا۔‘‘

کمیشن کی جانب سے یہ ہدایت سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ایک اشتہار پر نوٹس لینے کے بعد جاری کی گئی۔ تاہم الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود وہ اشتہار پیر کو بھی مختلف ٹی وی چینلز پر دکھایا جاتا رہا۔

انتخابی مہم کے لیے ماضی کے مقابلے میں کم وقت اور سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں عوام تک زیادہ سے زیادہ اپنے پیغام پہچانے کے لیے ٹی وی اشتہارات پر تکیہ کیے ہوئے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز سیاسی قائدین کے عوامی جلسوں اور تقاریر کو براہ راست نشر کر رہے ہیں۔

ادھر 11 مئی کے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ عوام کی شرکت کو یقینی بنانے اور ووٹ ڈالنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے الیکشن کمیشن میں پیر کو ای ٹکٹ کے نظام کا باضابطہ کا افتتاح کیا گیا۔

اشتیاق احمد خان کہتے ہیں ’’پہلے ووٹر الیکشن کمیشن کے دفاتر کا چکر لگاتے تھے یا سیاسی جماعتیں انہیں پرچیاں بنا کر دیتی تھیں مگر اب ہر ایک اور خاندان کے افراد کے ووٹ، حلقے، پولنگ اسٹیشن کی معلومات 8300 پر ایس ایم ایس کر لے جا سکتا ہے اور وہ پولنگ ایجنٹ کو دکھا کر بیلٹ پیپر حاصل کر سکے گا۔‘‘

الیکشن کمیشن کے ایک بیان کے مطابق تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ بدھ تک پولنگ اسٹیشنز کے متعلق 313 شکایات کو نمٹا دیں۔ کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد کرنے والے سات لاکھ 20 ہزار افراد کی تربیت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG