رسائی کے لنکس

بیلٹ پیپر پر خالی خانے کی موجودگی، انتخابی تاریخ کا نیا باب ہوگا


اگر آپ کے حلقے سے دس امیدوار کھڑے ہوں اور ان تمام امیدواروں میں سے کسی کو بھی ووٹ نہ دینا چاہیں تو آپ اس خالی خانے میں مہر ثبت کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں عام انتخابات کی مقررہ تاریخ میں مزید ایک دن کم ہو گیا ہے۔ انتخابات کے انعقاد کا ذمے دار ادارہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ پہلی مرتبہ بیلٹ پیپر پر خالی خانہ فراہم کرنے سے لے کر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ میں حصہ دار بنانے تک ہر سہولت کے لئے کوشاں ہے۔

ادارے کی کوششیں کس حد تک بارآور ہوئیں اور ملک بھر میں جاری انتخابی سرگرمیاں کس رخ پر ہیں، آیئے اس پر ایک تفصیلی نظر ڈالیں:

خالی خانے کا’ نیا باب ‘

الیکشن 2013ء سے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ اس بار پہلی مرتبہ بیلٹ پیپر پرایک خالی خانہ بھی موجود ہوگا۔ یہ خالی خانہ ان ووٹرز کے لئے ہوگا جوکسی بھی امیدوار کو ووٹ دینا نہ چاہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ الیکشن کمیشن خالی خانے کے لئے باقاعدہ آر ڈیننس جاری کرانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ اس خالی خانے میں نہ تو کسی امیدوار کا نام ہوگا نا ہی کسی سیاسی پارٹی کا کوئی انتخابی نشان ۔ اگر آپ کے حلقے سے دس امیدوار کھڑے ہوں اور ان تمام امیدواروں میں سے کسی کو بھی ووٹ نہ دینا چاہیں تو آپ اس خالی خانے میں مہر ثبت کرسکتے ہیں۔

حساس پولنگ اسٹیشنز کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مئی کے انتخابات میں حساس پولنگ اسٹیشنز کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن حساس پولنگ اسٹیشنز کی معلومات ، وزارت آئی ٹی کو فراہم کرے گا۔الیکشن کمیشن کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ غیرتصدیق شدہ ڈگری والے189 سابق ارکان پارلیمنٹ کے نام ویب سائٹ پرجا ری کئے جائیں گے۔

اوورسیز پاکستانی ووٹ دے سکیں گے یا نہیں ۔۔ فیصلہ ایک ہفتے میں

اوورسیز پاکستانی انتخابات 2013 میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے میں ہوجائے گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر نادرا نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرلیا ہے تاہم ووٹ کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر اندر کرلیا جائے گا۔

چارسدہ میں رکشہ ڈرائیور الیکشن لڑے گا

صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں جہاں ایک طرف سیاسی پارٹیاں دولت مند امیدواروں کو ٹکٹ دے رہی ہیں وہیں چارسدہ کی تحصیل شب قدر کا رہنے والا رکشہ ڈرائیور متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے انتخاب لڑے گا۔

انگریزی اخبار ”ایکسپریس ٹربیون “کے مطابق پی کے 22سے الیکشن میں کھڑے ہونے والے فرہاد خان نے ریٹرننگ افسر کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کر ا دئیے ہیں۔ فرہاد خان کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں ٹیکسی چلاتا تھااور وہیں سے ایم کیوایم کی پالیسیوں خصوصا مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کو سامنے لانے سے متاثر ہوا۔

چارسدہ ہی کے حلقے این اے 8سے ایم کیوایم نے بیکری میں کام کرنے والے ایک محنت کش لیاقت علی کو بھی ٹکٹ دیا ہے ۔ وہ قومی وطن پارٹی کے چیف آفتاب احمد شیرپاوٴ کا سامنا کریں گے۔ لیاقت علی نے کہا کہ دھمکیاں ملنے کے باوجود ایم کیوایم انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

ٹکٹ نہ ملنے پر خود سوزی کی کوشش

کوئٹہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی کارکن سکینہ مینگل نے پریس بریفنگ کے دوران پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہ دیے جانے پر دلبرداشتہ ہوکر خود پر پیٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی جسے وہاں موجود لوگوں نے ناکام بنا دیا۔ سکینہ نے دعویٰ کیا کہ وہ 2002ء سے پی ایم ایل ن کی کارکن ہیں لیکن پارٹی نے انہیں نظر انداز کیا۔ سیکنہ کو ٹکٹ تو پھر بھی نہ مل پایا البتہ انہیں پولیس ضرور گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔

پیپلز پارٹی کا الیکشن سیل قائم

پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول ہاوٴس کراچی کے قریب سندھ کے لئے الیکشن سیل قائم کردیا ہے۔ پی پی پی کے جنرل سیکرٹری تاج حیدر کو سیل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سینیٹر سعید غنی اور مولا بخش چانڈیو، پروفیسر این ڈی خان، وقار مہدی، سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا، رخسانہ زبیری، حبیب جنیدی اور لطیف مغل سیل کے ارکان ہوں گے۔

باپ اور بیٹا مخالف جماعتوں کے امیدوار

عام انتخابات میں کئی حلقوں میں انتہائی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ مشہور سیاسی شخصیات سیدہ عابدہ حسین اور سید فخر امام کا بیٹا عابد امام جھنگ سے پی پی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہاہے جبکہ خود فخر امام خانیوال میں اپنے روایتی حریف رضا حیات ہراج کے خلاف مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

عابدہ حسین جوپی پی میں ہیں ابھی تک اپنی سیاست سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں لیکن وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں۔ عابد امام کی بہن صغریٰ امام پی پی کی سینیٹر ہیں۔ دوسروں کے علاوہ عابد امام کا مقابلہ فیصل صالح حیات سے ہو گا جو ایک آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتر رہے ہیں۔

سابق جج کے بھائی چوہدری اسد الرحمن جو روایتی مسلم لیگی ہیں اور کمالیہ سے جیتے بھی اور ہارے بھی ہیں اب ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کی نشست پر پارٹی کے امیدوار ہیں۔ خلیل الرحمن کے مرحوم بھائی سابق اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق کے بیٹے رضا فاروق کی بیوہ کو بھی مسلم لیگ ن نے خواتین کی خصوصی نشستوں میں جگہ دی ہے۔ وہ خلیل الرحمن رمدے کے داماد کے چھوٹے بھائی بھی تھے۔
XS
SM
MD
LG